بی آر ایس ، بی جے پی اور مجلس ملک کا حقیقی اتحاد، ڈاکٹر نارائنا کا الزام

   

مودی کے بیان پر کے سی آر وضاحت کریں، سرکاری اسکیمات کے نام پر سیاسی تقاریر کی مذمت
حیدرآباد۔/4 اکٹوبر،( سیاست نیوز) سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی سرکاری خرچ پر تلنگانہ کا دورہ کرتے ہوئے سیاسی گفتگو کررہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے نارائنا نے کہا کہ ترقیاتی اسکیمات کے نام پر وزیر اعظم نے تلنگانہ میں دو دن بھی سیاسی تقاریر کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری خرچ اور نظم و نسق کے استعمال کے ذریعہ وزیر اعظم کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ترقیاتی اسکیمات کی تقاریب میں سیاسی گفتگو کریں۔ انہوں نے کے سی آر کی جانب سے این ڈی اے میں شمولیت کی مساعی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس وقت کے سی آر نے یہ مساعی کی تھی اسوقت مودی خاموش کیوں رہے۔ اب وہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے بیان بازی کررہے ہیں۔ نارائنا نے چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا کہ وہ نریندر مودی کے بیان کا جواب دیں بصورت دیگر نریندر مودی کی طرح کے سی آر پر بھی عوام کو اعتماد ختم ہوجائے گا اور شبہات پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے عین قبل مودی نے ہلدی بورڈ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ نارائنا نے کہا کہ وزیر اعظم نے اصل راز کا انکشاف نہیں کیا ہے جو آندھرا پردیش میں اڈانی کو انتہائی قیمتی بندرگاہ الاٹ کرنے سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریت اور شراب اسکام میں وائی ایس آر کانگریس اور بی آر ایس نے بی جے پی سے مفاہمت کرلی ہے۔ چندرا بابو نائیڈو کی گرفتاری کا حوالہ دیتے ہوئے نارائنا نے کہا کہ اسکام میں ملوث افراد خود دوسروں پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ نائیڈو کی گرفتاری کو قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر نارائنا نے کہا کہ مرکز میں نریندر مودی اور آندھرا پردیش میں جگن موہن ریڈی اپنے مخالفین کے خلاف کارروائیوں کے ذریعہ مشکلات پیدا کررہے ہیں۔ مقدمات کے ذریعہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کی سازشیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی کا منصوبہ یہ ہے کہ چندرا بابو نائیڈو کو نقصان پہنچا کر آندھرا پردیش میں بی جے پی کیلئے راہ ہموار کی جائے۔ نارائنا نے کہا کہ ملک میں حقیقی اتحاد تو بی جے پی ، بی آر ایس اور مجلس کے درمیان ہے۔ مودی کے دوبارہ برسراقتدار آنے پر ملک کے حالات اتر پردیش کی طرح ہوجائیں گے۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ساتھ مفاہمت کے مسئلہ پر نارائنا نے کہا کہ کانگریس قیادت سے مفاہمت کی بات چیت جاری ہے۔ آندھرا پردیش میں انتخابات کے وقت مفاہمت پر غور کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں دونوں کمیونسٹ پارٹیاں متحدہ طور پر مقابلہ کرنے کا فیصلہ کرچکی ہیں ۔ کانگریس سے مفاہمت طئے پانے کی صورت میں اسمبلی حلقہ جات کے ناموں کا اعلان کیا جائے گا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس پارٹی نے دونوں کمیونسٹ پارٹیوں کو جملہ 5 نشستوں کی پیشکش کی ہے جس پر کمیونسٹ پارٹیوں کی جانب سے جواب کا انتظار ہے ۔