بی آر ایس اقلیتی قائدین کا اجلاس، قائدین کے پاس کوئی ایجنڈہ نہیں

   

چیف منسٹر کے سی آر کا کابینی رفقاء کیساتھ اجلاس میں شرکت کرنے کا منصوبہ
حیدرآباد۔16جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ میں مسلمانوں کو مسلسل نظرانداز کئے جانے اور ان کی فلاحی اسکیمات کے متعلق حکومت کی بے اعتنائی اور انہیں مؤثر نمائندگیوں کی عدم فراہمی کی شکایات اور عوام میں پائی جانے والی ناراضگی کو دیکھتے ہوئے بھارت راشٹر سمیتی نے 20 جولائی کو شہر حیدرآباد میں پارٹی کے اقلیتی قائدین بالخصوص مسلمانوں کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جار ہاہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے کابینی رفقاء کے ساتھ 20 جولائی کو اپنی پارٹی کے مسلم قائدین سے ملاقات کا منصوبہ تیار کیا ہے ۔ بھارت راشٹر سمیتی نے پارٹی کے مسلم قائدین کا اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ تو کرلیا لیکن پارٹی کے اس فیصلہ کے باوجود پارٹی کے مسلم قائدین کے پاس کوئی ایسی تجویز یا منصوبہ نہیں ہے جو کہ اس اجلاس کے دوران پیش کرتے ہوئے حکومت کے ذریعہ ریاست کے مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کے اقدامات کئے جاسکیں اور نہ ہی ان قائدین میں اتنی جرأ ت ہے کہ وہ گذشتہ 9 برسوں کے دوران مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے متعلق استفسار کرسکیں۔ بی آر ایس کے مسلم قائدین کے اجلاس کے دوران پارٹی نے قائدین کو آئندہ اقتدار حاصل ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ مکمل انصاف کی یقین دہانی کے ذریعہ انہیں عوام کے درمیان پارٹی کے نمائندوں کے طور پر بھیجنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے جبکہ کسی بھی ضلعی یا ریاستی اقلیتی قائدنے پارٹی میں مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر مسلمانوں کے مسائل کو پیش کرنے کے لئے کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا ہے۔ 9 سال کے دوران بھارت راشٹرسمیتی نے مسلمانوں سے جو وعدہ کئے اور ان پر عمل نہیں کیا گیا ان میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی ہے جس پر محض اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مکمل خاموشی اختیار کرلی گئی جبکہ ایس سی اور ایس ٹی طبقہ کے تحفظات کے فیصد میں اضافہ کے سلسلہ میں بھی قرارداد منظور کی گئی لیکن اس پر عمل آوری کے لئے آرڈیننس کا راستہ اختیار کرتے ہوئے اس میں اضافہ کے اقدامات کو یقینی بنایا گیا اور اس پر عمل آوری بھی جاری ہے جبکہ 12 فیصد مسلم تحفظات کا معاملہ برفدان کی نذر کردیا گیا ہے۔ اسی طرح اقتدار حاصل کرنے سے قبل کے چندرشیکھر راؤ نے مسلمانوں کے لئے ذیلی منصوبہ کی تیاری کا اعلان کیا تھا لیکن اس پر کوئی عمل آوری نہیں کی گئی جبکہ ایس ٹی طبقہ کے لئے ذیلی منصوبہ کو منظوری فراہم کرتے ہوئے ان کے بجٹ کو ہزاروں کروڑ کردیا گیا۔ اسی طرح اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر کے علاوہ اجمیر شریف میں رباط کی تعمیر کا مسئلہ بھی زیر التواء رکھا گیا ہے۔ مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا وعدہ اور اعلان کیا گیا تھا لیکن اس پر بھی عمل آوری نہیں ہوپائی ہے ۔اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن منصوبہ بند انداز میںان کی تباہی کا سلسلہ جاری ہے۔ حکومت نے تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کمپنی لمیٹڈ میں مسلم ڈائریکٹر کے تقرر کو نظرانداز کیا اسی طرح تلنگانہ اسٹیٹ پبلک سروس کمیشن میں مسلم رکن کو نمائندگی دینے سے بھی گریز کیا گیا ۔ تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی کاکردگی کو بہتر بنانے اور اسکیمات کے آغاز کا اعلان کیا گیا لیکن ان اسکیمات پر عمل آوری صفر رہی ۔ ریاست میں مسلمانوں کو مایوس کرنے کے بعد اب حکومت و چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤپارٹی قائدین کے بجائے اگر عوام کو خوش کرنے کے کام انجام دیتے ہیں تو ایسی صورت میں ریاست کے مسلمانوں کا کوئی فائدہ ہو سکتا ہے اگر حکومت پارٹی کے اقلیتی قائدین کو ہی خوش کرنے کی پالیسی اختیار کرتی ہے تو بھی حکومت کو ریاست کے عوام کی تائید حاصل ہونے کے کوئی امکانات نہیں ہیں۔ م