بی آر ایس اور بی جے پی انتخابی مفاہمت کیلئے دہلی میں سرگرمیاں: مانک راؤ ٹھاکرے

   

دونوں پارٹیوں کے کئی قائدین کانگریس سے ربط میں، تلنگانہ میں کانگریس کا اقتدار یقینی
حیدرآباد ۔23۔ جون (سیاست نیوز) اے آئی سی سی جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس حکومت کی تشکیل کو کوئی بھی طاقت روک نہیں پائے گی ۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مانک راؤ ٹھاکرے نے کہا کہ ایک طرف پٹنہ میں اپوزیشن قائدین کا اجلاس جاری ہے تو دوسری طرف نئی دہلی میں بی آر ایس کے قائدین بی جے پی کے قومی قائدین سے ملاقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی میں کوئی فرق نہیں ہے اور دونوں پارٹیوں کے درمیان خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے خلاف محاذ کی تشکیل کی تیاریاں کی جارہی ہیں تاکہ کانگریس کو اقتدار سے روکا جائے۔ ٹھاکرے نے کہا کہ کانگریس پارٹی پر تلنگانہ عوام کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ بی آر ایس قائدین تلنگانہ کے مسائل پر قومی قائدین سے ملاقات کر رہے ہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ بی آر ایس دراصل بی جے پی کے ساتھ اتحاد قائم کرنا چاہتی ہے ۔ ٹھاکرے نے کہا کہ تلنگانہ عوام کانگریس کے ساتھ ہیں اور کوئی بھی طاقت کانگریس کو برسر اقتدار آنے سے روک نہیں پائے گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر بی آر ایس اور بی جے پی میں خفیہ مفاہمت نہیں ہے تو پھر شراب اسکام میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے کویتا کو گرفتار کیوں نہیں کیا۔ بی جے پی کے ساتھ مل کر اسمبلی انتخابات لڑنے کیلئے دونوں پارٹیوں میں مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر ابتداء ہی سے بی جے پی کے ساتھ ہیں اور انہوں نے مرکز میں نریندر مودی حکومت کے ہر فیصلہ کی تائید کی ہے۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بی جے پی اور بی آر ایس کے کئی قائدین کانگریس سے ربط میں ہیں اور بہت جلد کانگریس میں بڑے پیمانہ پر شمولیت اختیار کریں گے ۔ مانک راؤ ٹھاکرے کے ہمراہ سکریٹری اے آئی سی سی روہت چودھری ، نائب صدر پردیش کانگریس وینو گوپال اور ترجمان بی سدھاکر موجود تھے۔ر