کانگریس کی 2 سالہ کارکردگی پر مباحث کا چیلنج، مجالس مقامی چناؤ میں کانگریس کی طاقت کا مظاہرہ، کریم نگر میں انتخابی مہم سے چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد 5 فروری (سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے تلنگانہ میں بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان مفاہمت کا الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ کانگریس حکومت کے خلاف دونوں متحدہ طور پر کام کررہے ہیں اور دونوں میں یہ رشتہ ’’فیویکال‘‘ کی طرح مضبوط ہے۔ چیف منسٹر مجالس مقامی انتخابی مہم کے ضمن میں آج کریم نگر میں جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ چیف منسٹر نے کریم نگر کے گملاپور میں مختلف ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا اور عوامی جلسہ سے خطاب کیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ گزشتہ 2 برسوں میں حکومت نے 7 کارپوریشنوں اور 123 میونسپلٹیز کی ترقی پر 17442 کروڑ خرچ کئے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ سونیا گاندھی نے کریم نگر کی سرزمین سے علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کا وعدہ کیا تھا اور اپنے وعدے کو پورا کیا۔ آندھراپردیش میں کانگریس کے اقتدار سے محروم ہونے کی پرواہ کئے بغیر سونیا گاندھی نے تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وعدے کی تکمیل کی۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس نے تلنگانہ تشکیل دیا لیکن عوام نے بی آر ایس کو اقتدار عطا کیا۔ عوامی فیصلہ کو کانگریس نے قبول کیا۔ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں عوام نے ٹیکس کی صورت میں حکومت کو 20 لاکھ کروڑ ادا کئے لیکن 10 برسوں میں غریبوں کے لئے ڈبل بیڈ روم مکانات بھی تعمیر نہیں کئے گئے۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس حکومت کے 2 سال کی تکمیل کے موقع پر مجالس مقامی کے انتخابات ہورہے ہیں۔ حکومت کی تشکیل کے بعد سے بعض طاقتیں مخالف مہم میں مصروف ہیں۔ ایک سیاسی خاندان کانگریس حکومت کے زوال کے خواب دیکھ رہا ہے۔ بی جے پی نے محبوب نگر ضلع میں پارٹی کی انتخابی مہم کے لئے قومی صدر مدعو کیا۔ کالیشورم اور پالمور رنگاریڈی پراجکٹ کو مرکز نے قومی پراجکٹ کا درجہ نہیں دیا اور میٹرو ریل کے علاوہ ریجنل رنگ روڈ اور موسیٰ ندی ترقیاتی پراجکٹ کو منظوری نہیں دی گئی۔ تلنگانہ کے پراجکٹس کی منظوری کے بغیر قومی صدر کیا صورت لیکر انتخابی مہم چلانے پہونچے تھے۔ اُنھوں نے کہاکہ قومی صدر کو انتخابی مہم کے لئے مدعو کرنے کے باوجود بی جے پی ایک بھی میونسپلٹی میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتی۔ کانگریس کی طاقت کیا ہے اُس کا مظاہرہ انتخابات میں ہوجائے گا۔ بی جے پی اور بی آر ایس میں فیویکال رشتہ کا الزام عائد کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس نے بی جے پی کیلئے ووٹ اور نشستوں کی قربانی دی جس کے نتیجہ میں بی جے پی کے 8 ارکان پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ بی آر ایس کی 8 لوک سبھا حلقوں میں ضمانت ضبط ہوئی اور اُس نے بی جے پی کی کامیابی کیلئے راہ ہموار کی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ایک لاکھ کروڑ سے کالیشورم پراجکٹ تعمیر کیا گیا جو 3 ماہ میں ناکارہ ثابت ہوچکا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ نریندر مودی اور امیت شاہ نے کہا تھا کہ بی آر ایس نے کالیشورم پراجکٹ کو اے ٹی ایم میں تبدیل کردیا ہے لیکن مرکز نے ابھی تک کالیشورم کی سی بی آئی تحقیقات سے متعلق تلنگانہ اسمبلی کی قرارداد پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اُنھوں نے کہاکہ مرکزی وزراء بنڈی سنجے اور کشن ریڈی کو اِس سلسلہ میں جواب دینا چاہئے۔ چیف منسٹر نے بی جے پی کو چیلنج کیاکہ وہ بلدی انتخابات کے اختتام سے قبل کالیشورم دھاندلیوں میں کے سی آر کو گرفتار کرکے دکھائے۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس اور بی جے پی قائدین ایک دوسرے کا دفاع کررہے ہیں اور 10 سالہ بی آر ایس دور حکومت کی بدعنوانیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ چیف منسٹر نے بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت اور بی جے پی کی مرکز میں 12 برس کی حکمرانی کا تلنگانہ کی 2 سالہ کانگریس حکومت کے تقابل پر کھلے مباحث کا چیلنج کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ 2 برسوں میں 70 ہزار جائیدادوں پر تقررات کئے گئے۔ چیف منسٹر نے دونوں پارٹیوں کے قائدین کو لال بہادر اسٹیڈیم میں مباحث کا چیلنج کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ بی آر ایس حکومت نے فون ٹیاپنگ کے ذریعہ کئی اہم شخصیتوں کے فون ٹیاپ کئے۔ حد تو یہ ہوگئی کہ شوہر اور بیوی کے درمیان گفتگو بھی ریکارڈ کی گئی۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس طرح کی حرکت کرنے والے انسان نہیں ہوسکتے۔ جلسہ عام میں ریاستی وزراء سریدھر بابو، اے لکشمن کمار، پونم پربھاکر اور ٹی ناگیشور راؤ موجود تھے۔1