بی آر ایس اور بی جے پی میں 2014 ء سے اٹوٹ بندھن : ریونت ریڈی

   

نریندر مودی اور کے ٹی آر کے بیانات ثبوت، مخالف حکومت ووٹ تقسیم کرنے کی سازش
حیدرآباد 5 اکٹوبر (سیاست نیوز) صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے الزام عائد کیاکہ 2014 ء سے بی جے پی اور بی آر ایس کے درمیان اٹوٹ بندھن ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور کے ٹی راما راؤ کے بیانات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بی جے پی سے روابط کے بارے میں ٹی آر ایس قائدین کی تردید پر تبصرہ کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ 2014 ء سے بی آر ایس اور بی جے پی نے ہر معاملہ میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ کانگریس کو کمزور کرنے کیلئے دونوں پارٹیوں نے مل کر کام کیا۔ پارلیمنٹ میں بی آر ایس نے ہر موڑ پر نریندر مودی حکومت کی تائید کی۔ اُنھوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ٹی راما راؤ کے بیانات سے اٹوٹ بندھن ثابت ہوتا ہے۔ ریونت ریڈی اچم پیٹ اسمبلی حلقہ سے تعلق رکھنے والے بی آر ایس قائدین کی کانگریس میں شمولیت کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔ زیڈ پی ٹی سی ایم نائک، زیڈ پی ٹی سی پرتاپ ریڈی، ایم پی پی ارونا نرسمہا ریڈی اور دیگر مقامی عوامی نمائندوں نے جوبلی ہلز میں ریونت ریڈی کی قیامگاہ پر ملاقات کرتے ہوئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ اِس موقع پر ریونت ریڈی نے کہاکہ چیف منسٹر کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد سے کے سی آر ہمیشہ نریندر مودی کی تعریف کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ 9 برسوں میں پارلیمنٹ میں مودی حکومت کی تائید کی گئی۔ 2016 ء میں مشن بھگیرتا اسکیم کے آغاز کے موقع پر کے سی آر اور مودی نے ایک دوسرے کی ستائش کی تھی۔ ریونت ریڈی نے یاد دلایا کہ 2018 ء میں اسمبلی کی تحلیل سے قبل نئی دہلی پہونچ کر کے سی آر نے صرف بی جے پی قائدین سے ملاقات کی تھی۔ دونوں پارٹیوں میں انتخابی مفاہمت پر مذاکرات ہوئے۔ اُنھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی کو شکست دینے کے لئے منصوبہ بندی کی گئی۔ بی جے پی کے سابق ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نے کہا تھا کہ اگر معلق اسمبلی تشکیل پاتی ہے تو بی جے پی کے سی آر کی تائید کرے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ میں مخالف حکومت ووٹ تقسیم کرنے کیلئے وزیراعظم تلنگانہ کے مسلسل دورے کررہے ہیں۔ ریونت ریڈی نے بی آر ایس ارکان پارلیمنٹ کے حوالہ سے دعویٰ کیاکہ اسمبلی اور لوک سبھا چناؤ کیلئے دونوں پارٹیوں میں مفاہمت ہوچکی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ تلنگانہ عوام باشعور ہیں اور وہ اسمبلی چناؤ میں بی جے پی اور بی آر ایس کو مسترد کردیں گے۔