ایک سابق وزیر ، سابق رکن پارلیمنٹ ، موجودہ رکن اسمبلی اور سابق ایم ایل سی کانگریس سے رابطہ میں
راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے دورہ تلنگانہ کے موقع پر کانگریس میں شمولیت کی تیاری ، ریونت ریڈی کافی سرگرم
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس اور بی جے پی کو تلنگانہ میں ایک کے بعد ایک قائدین دونوں پارٹیوں سے مستعفی ہوکر اپنی اپنی قیادت کو جھٹکے دے رہے ہیں اور کانگریس میں شامل ہورہے ہیں ۔ نظام آباد میں سابق ایم ایل سی ویمن ڈیولپمنٹ کارپوریشن کی صدر نشین اے للیتا نے بی آر ایس اور کارپوریشن صدر نشین کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا اور کانگریس میں شامل ہونے کی تیاری کررہی ہیں ۔ سابق وزیر ایم وینکٹیشور راؤ نے بھی بی آر ایس سے مستعفی ہونے کی تیاری کرلی ہے ۔ کانگریس قائدین سے یہ دونوں رابطہ میں ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی 18 اکٹوبر کو تلنگانہ کے دورہ پر پہونچ رہے ہیں ۔ ان سے ملاقات کرکے اے للیتا اور ایم وینکٹیشور راؤ کانگریس میں شامل ہوجائیں گے ۔ بی آر ایس کے ایک اور رکن اسمبلی راٹھور باپو راؤ بھی بہت جلد بی آر ایس سے مستعفی ہو کر کانگریس میں شامل ہوجائیں گے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے انہیں ٹکٹ سے محروم کردیا ہے تب سے وہ ناراض ہیں اور اپنے حامیوں کے مسلسل اجلاس منعقد کررہے تھے ۔ آج انہوں نے صدر پردیش کانگریس اے ریونت ریڈی سے ملاقات کی جس کے بعد یہ افواہیں گشت کررہی ہے کہ وہ بھی بہت جلد کانگریس میں شامل ہوجائیں گے ۔ بی جے پی کے سینئیر قائد سابق وزیر آر پرکاش ریڈی نے بھی بی جے پی سے مستعفی ہو کر کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں گذشتہ چار ماہ سے بی جے پی کا گراف گرتا جارہا ہے ۔ ماضی میں کانگریس میں جو گروپ بندیاں تھی وہ اب ختم ہوگئیں ۔ بی جے پی میں گروپ بندیاں شدت اختیار کر گئی ہیں جس سے بی جے پی میں انہیں گھٹن محسوس کورہی ہے وہ اپنے حامیوں کے ساتھ 18 اکٹوبر کو راہول اور پرینکا گاندھی سے ملاقات کرکے کانگریس میں شامل ہوجائیں گے ۔ آر پرکاش ریڈی نے بنڈی سنجے کو تلنگانہ بی جے پی کی صدارت سے ہٹانے کے فیصلے کو بی جے پی کیلئے نقصان دہ قرار دیا ۔ بی جے پی نے سیلف گول کرلیا ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں کانگریس ہی بی آر ایس کی متبادل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صدر پردیش کانگریس نے ان سے ملاقات کرکے کانگریس میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے اور اس دعوت کو انہوں نے قبول کرلیا ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس پارٹی اسمبلی حلقہ پرکال سے آر پرکاش ریڈی کو ٹکٹ دینے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے ۔ اس کے علاوہ اضلاع کھمم ، نلگنڈہ ، محبوب نگر ، نظام آباد ، ورنگل اور گریٹر حیدرآباد میں بی آر ایس قائدین ، کارپوریٹرس ، مقامی اداروں کے منتخب عوامی نمائندے بی آر ایس ارکان اسمبلی کی ظلم و زیادتی اور نا انصافی کے علاوہ سرکاری و پارٹی کے پروگرامس سے انہیں دور رکھنے پر بطور احتجاج بی آر ایس سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل ہورہے ہیں ۔ ن