ریاست میں ترقی کیلئے ہم نے بہت جدوجہد کی ہے ۔ چیف منسٹر کا مختلف انتخابی جلسوں سے خطاب
حیدرآباد۔/23 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ بی آر ایس اور عوام کا اٹوٹ رشتہ ہے جس سے اپوزیشن بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ تلنگانہ عوام اور بی آر ایس کے درمیان رشتہ ٹوٹنے کی گمراہ کن مہم چلائی جارہی ہے ۔ اگر کانگریس اور بی جے پی کے جھوٹے وعدوں پر بھروسہ کیا گیا تو برقی قمقموں سے جگمگانے والا تلنگانہ تاریکی میں ڈوب جائے گا۔ ہر اووٹ ریاست کے مستقبل کو طئے کریگا، معمولی سی غفلت اور لاپرواہی پانچ سال کی سزا بن جائے گی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج اسمبلی حلقہ جات وقارآباد، مہیشورم، ظہیرآباد اور پٹن چیرو میں عوامی آشیرواد جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کی 60 لاکھ گلابی فوج ہے جو پارٹی امیدواروں کو کامیاب بنانے ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے اور عوام بھی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ تمام سروے بی آر ایس کے حق میں ہیں۔ بی آر ایس کو عوامی تائید کو دیکھ کر اپوزیشن جماعتیں بالخصوص بالخصوص کانگریس بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ تلنگانہ عوام کو گمراہ کرنے سوشیل میڈیا کے ذریعہ کانگریس کی لہر کا دعویٰ کررہے ہیں جس میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ کانگریس اور بی جے پی کا زمینی سطح پر کوئی وجود نہیں ہے، یہ دونوں جماعتیں واٹس ایپ یونیورسٹی پر جھوٹی تشہیر کرکے عوام کو دھوکہ دے رہی ہیں۔ 3 ڈسمبر کو نتائج بی آر ایس کے حق میں آئیں گے جس کے بعد کانگریس اور بی جے پی قائدین نظروں سے اوجھل ہوجائیں گے اور عوام کے درمیان نظر نہیں آئیں گے بی آر ایس قائدین ہی عوام میں موجود رہیں گے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ بی آر ایس کو اقتدار سے بیدخل کرنے کانگریس و بی جے پی سے منظم سازش کی جارہی ہے جس کو عوام ناکام بنائیں گے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کہا کہ انہوں نے تلنگانہ کو ترقی دینے اور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کیا جس کے نتائج عوام کے سامنے ہیں، تیسری بار کامیابی کے بعد مزید اقدامات کریں گے۔ ریاست کے عوام کو 24 گھنٹے برقی دستیاب ہے، نلوں سے عوام کو پینے کا پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا ، عوام خوشحال زندگی گذار رہے ہیں ۔ ریاست کے ہر ضلع میں سرکاری میڈیکل کالج قائم کیا جارہا ہے۔ عوام کو کارپوریٹ طرز کی طبی خدمات فراہم کرنے ہاسپٹلس کو عصری تقاضوں سے لیس کیا جارہا ہے۔ مختلف ٹسٹ اور ادویات بھی مفت ہیں۔ عوام کو جوابدہ حکومت بنانے ہر ممکن کام کیا ہے۔ عوام کے حق میں فیصلے کرنے کے معاملہ میں وہ آزاد ہیں جبکہ کانگریس قائدین دہلی کے غلام ہیں اور بی جے پی قائدین گجرات کے غلام ہیں۔ کانگریس گیارنٹی کی کوئی وارنٹی نہیں ہے۔ کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو گیارنٹی پر عمل نہیں ہوگا مگر تلنگانہ میں تاریکی کی گیارنٹی ہے، ریتو بندھو اسکیم ختم کردی جائیگی، 24 گھنٹے برقی نہیں ہوگی ۔ اگر کانگریس پر بھروسہ کیا گیا تو بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فلاحی اسکیمات کو برقرار رکھنے 400 روپئے میں پکوان گیس،5 لاکھ روپئے کا لائف انشورنس، 15 لاکھ روپئے تک مفت علاج ، راشن شاپس سے عوام کو باریک چاول حاصل ہوگا۔ آسرا پنشن بڑھ کر 5 ہزار تک پہنچ جائے گی، خواتین کو ماہانہ تین ہزار روپئے مالی امداد دی جائے گی ۔ ن