اندرون تین ہفتے حکومت کو حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت
حیدرآباد۔/16 اگسٹ، ( سیاست نیوز) ریاست بھر میں بی آر ایس پارٹی کے دفاتر کیلئے قیمتی اراضیات کے الاٹمنٹ کے خلاف تلنگانہ ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست پر آج سماعت ہوئی جس میں درخواست گذاروں نے شکایت کی کہ حیدرآباد کے بشمول اضلاع میں بی آر ایس کے دفاتر کیلئے معمولی قیمت پر اراضیات الاٹ کی گئی ہیں۔ درخواست گذاروں نے کہا کہ سرکاری اراضیات عوام کو فی ایکر 100 کروڑ کے حساب سے فروخت کی جارہی ہیں لیکن بی آر ایس پارٹی کیلئے انتہائی معمولی قیمت پر اراضیات الاٹ کی گئیں۔ سی ایچ پربھاکر نے درخواست گذاروں کی جانب سے بحث کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ بی آر ایس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کو جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی گئی لیکن ابھی تک حلفنامہ داخل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 16 ماہ قبل نوٹس کی اجرائی کے باوجود آج تک حلفنامہ کا عدم ادخال باعث افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دفاتر کی تعمیر سے عوام کو مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ عدالت کو بتایا گیا کہ شہر کے اطراف سرکاری اراضیات فی ایکر 100 کروڑ کے حساب سے فروخت کی گئیں جبکہ بی آر ایس کو 100 روپئے فی گز کے حساب سے اراضی مختص کی گئی۔ ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی کہ برسراقتدار پارٹی کو حلفنامہ کے ادخال کا پابند کیا جائے۔ اس موقع پر عدالت نے کہا کہ سرکاری اراضیات عوام کو جس قیمت پر فروخت کی گئیں اسی قیمت پر بی آر ایس پارٹی کو بھی الاٹ کرنا چاہیئے۔ عدالت نے اس سلسلہ میں اپنے ایک فیصلہ کا حوالہ دیا۔ ہائی کورٹ نے اندرون تین ہفتے حلفنامہ داخل کرنے کی حکومت کو ہدایت دیتے ہوئے سماعت کو آئندہ کیلئے ملتوی کردیا۔
