بی آر ایس دوبارہ برسر اقتدار آنے پر پٹن چیرو تک میٹرو ٹرین کی توسیع: کے سی آر

,

   

تلنگانہ میں ایک ایکر اراضی کی قیمت آندھرا کی 100 ایکر اراضی کے مماثل، سرکاری دواخانوں میں 50 ہزار بستروں کا اضافہ، پٹن چیرو میں چیف منسٹر کا خطاب
حیدرآباد 22 جون (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے اعلان کیاکہ بی آر ایس کے دوبارہ برسر اقتدار آنے پر میٹرو ٹرین کو پٹن چیرو تک توسیع دی جائے گی اور کابینہ کے پہلے اجلاس میں اِس بارے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ پٹن چیرو میں 200 بستروں پر مشتمل سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کا سنگ بنیاد رکھنے کے بعد چیف منسٹر جلسہ عام سے خطاب کررہے تھے۔ چیف منسٹر نے یوم شہیدانِ تلنگانہ کے ضمن میں یادگار شہیدان تلنگانہ پہونچ کر خراج پیش کیا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ تلنگانہ جدوجہد کے دوران نئی ریاست کے قیام اور اُس کی ترقی سے متعلق کئی شبہات کا اظہار کیا جارہا تھا لیکن تلنگانہ نے صرف چند برسوں میں ہر شعبہ میں نمایاں کارکردگی کے ذریعہ ملک میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ ہر شعبہ کو 24 گھنٹے بلاوقفہ برقی سربراہ کرنے والی تلنگانہ واحد ریاست ہے۔ گھر گھر صاف پینے کا پانی سربراہ کرنے والی بھی تلنگانہ ملک کی واحد ریاست بن چکی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ پٹن چیرو تک حیات نگر غیرمعمولی ٹریفک کا علاقہ ہے۔ عوام کی سہولت کے لئے میٹرو ٹرین کو پٹن چیرو تک توسیع دی جائے گی اور بی آر ایس کے دوبارہ برسر اقتدار آتے ہی کابینی اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا۔ اُنھوں نے کہاکہ صنعتی ترقی کے نتیجہ میں تلنگانہ میں اراضیات کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ چندرابابو نائیڈو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر نے کہاکہ ایک دور وہ تھا جب آندھراپردیش میں ایک ایکر اراضی فروخت کرنے پر تلنگانہ میں 10 ایکر اراضی خریدی جاسکتی تھی لیکن آج صورتحال تبدیل ہوچکی ہے جس کا اعتراف آندھرائی قائدین کررہے ہیں۔ تلنگانہ نے ترقی کے ذریعہ اپنی شناخت بنائی ہے۔ ترقی کے نتیجہ میں چندرابابو نائیڈو خود یہ کہنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ تلنگانہ میں ایک ایکر اراضی فروخت کی جائے تو آندھراپردیش میں 100 ایکر اراضی خریدی جاسکتی ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کے معاملہ میں تلنگانہ ملک میں سرفہرست ہے۔ وزیر صحت ہریش راؤ کی ستائش کرتے ہوئے کے سی آر نے کہاکہ ہریش راؤ کی مساعی کے نتیجہ میں ریاست میں طبی خدمات میں بہتری آئی ہے۔ حیدرآباد میں عثمانیہ، گاندھی اور نیلوفر ہاسپٹلس کے علاوہ کوئی اور سرکاری ہاسپٹل نہیں تھا لیکن اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر نے تین میونسپلٹیز کے لئے فی کس 30 کروڑ روپئے ترقیاتی فنڈ کا اعلان کیا۔ 55 گرام پنچایتوں کے لئے فی کس 15 لاکھ روپئے ترقیاتی فنڈ اور 3 بلدی ڈیویژنس کے لئے 10 کروڑ روپئے کا چیف منسٹر نے اعلان کیا۔ انھوں نے پٹن چیرو کو عنقریب ریونیو ڈیویژن میں تبدیل کرنے کا تیقن دیا۔ حیدرآباد سے سنگاریڈی تک ٹریفک مسئلہ کی یکسوئی اور عوام کی سہولت کے لئے دوبارہ برسر اقتدار آنے پر سنگاریڈی تا حیات نگر میٹرو پراجکٹ کو منظوری دی جائے گی۔ کے سی آر نے کہاکہ متحدہ آندھراپردیش میں ریاستی وزیر کی حیثیت سے اُنھیں پٹن چیرو آنے کا موقع ملا۔ سنگاریڈی گیسٹ ہاؤز میں قیام کرتے ہوئے میں نے پٹن چیرو کی ہر گلی کوچے میں پدیاترا کی اور عوامی مسائل سے واقفیت حاصل کی۔ اُنھوں نے مقامی رکن اسمبلی مہی پال ریڈی کی قیادت میں پٹن چیرو میں ترقیاتی کاموں کی ستائش کی۔ چیف منسٹر نے کہاکہ وہ وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی کے اسمبلی حلقہ مہیشورم میں میٹرو ٹرین پراجکٹ کا وعدہ کرچکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ حیدرآباد سے پٹن چیرو راہداری پر ٹریفک کے مسائل ہیں۔ پٹن چیرو سے دلسکھ نگر اور پٹن چیرو سے حیات نگر تک میٹرو ٹرین کی سخت ضرورت ہے۔ بی آر ایس دوبارہ برسر اقتدار آنے پر پٹن چیرو تا حیات نگر میٹرو ٹرین پراجکٹ کو منظوری دی جائے گی۔ اُنھوں نے کہاکہ پٹن چیرو میں غیرمعمولی صنعتی ترقی ہوئی ہے۔ طبی آلات سے متعلق کمپنیوں کے قیام سے 15 ہزار سے زائد افراد کو روزگار حاصل ہوا ہے۔ علاقہ میں بہت جلد آئی ٹی کمپنیوں کے قیام سے روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔ کے سی آر نے حکومت کی مختلف اسکیمات کا حوالہ دیا جس میں کے سی آر کٹ شامل ہے جو سرکاری دواخانوں میں خواتین کو تقسیم کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ہریش راؤ نے محکمہ صحت میں کئی اصلاحات اور اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ سرکاری دواخانوں میں ماں اور بچے کی بہتر نگہداشت کے لئے ضروری غذاؤں پر مشتمل کٹ تقسیم کیا جارہا ہے۔ متحدہ آندھراپردیش میں سرکاری دواخانوں میں بستروں کی تعداد 17 ہزار ہے جنھیں 50 ہزار کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ہر بستر کے ساتھ آکسیجن کی سربراہی کو لازمی کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے کہاکہ اگر عوام کا آشیرواد جاری رہا تو آئندہ بھی مختلف شعبہ جات کی ترقی کے اقدامات کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ پٹن چیرو میں ایک ایکر اراضی کی قیمت 30 کروڑ تک پہونچ چکی ہے۔ اِسی مناسبت سے تلنگانہ میں ایک ایکر اراضی فروخت کرتے ہوئے آندھراپردیش میں 100 ایکر اراضی خریدی جاسکتی ہے۔ ر