کانگریس وعدوں سے بہتر وعدے کرنے ماہرین ، دانشوروں سے مشاورت ۔ رائے عامہ کا جائزہ
ہوم اسٹیٹ پر گرفت مضبوط کرنے کی منصوبہ بندی ۔ ورنگل میں 10 لاکھ عوام کے کا جلسہ کرنے پر غور
حیدرآباد ۔ 21 ستمبر ۔ ( سیاست نیوز) کانگریس کے 6 گیارنٹیز پر عوام نے مثبت ردعمل کااظہار کیا ہے ۔ اور یہ وعدے ساری ریاست میں موضوع بحث بن گئے ہیں ۔ کانگریس قائدین گھر گھر پہونچ کر جہاں اس کی تشہیر کررہے ہیں وہیں میڈیا بالخصوص سوشل میڈیا پر تیزی سے اسے وائرل کیا جارہا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کانگریس کے وعدوں کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ساتھ ہی مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے ماہرین سماج کے مختلف طبقات کے دانشوروں ، آفیسرس سے تبادلہ خیال کررہے ہیں اور تازہ حالات پر سروے کرتے ہوئے حکومت کی اسکیمات پر عوام کے رجحان کو جاننے کی کوشش کررہے ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ ان سے جو ان پٹ حاصل ہورہا ہے اس کی بنیاد پر کانگریس سے بہتر فلاحی اسکیمات کا اعلان کرنے پر غور کررہے ہیں۔ اس کام کی ذمہ داری بی آر ایس پارٹی کے چند قائدین کے علاوہ ماہرین کو سونپی گئی ہے ۔ قومی سیاست میں سرگرم رول ادا کرنے کیلئے علاقائی جماعت ٹی آر ایس کو بی آر ایس میں تبدیل کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر پہلے اپنے ہوم اسٹیٹ تلنگانہ میں اپنے قدم مضبوط کرنے پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔ تلنگانہ میں مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے وہ ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں تاکہ ملک کو یہ بتاسکے کہ وہ عوامی تائید رکھنے والے ملک کے مقبول ترین چیف منسٹر ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر ایک تیر کے ساتھ کئی نشان لگانے کی حکمت عملی تیار کررہے ہیں ۔ جنوبی ہند میں کسی بھی جماعت نے مسلسل تیسری مرتبہ اقتدار حاصل نہیں کیا ہے ۔ تلنگانہ میں کامیابی کے ساتھ ہیٹ ٹرک بناکر نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ کانگریس نے جن 6 اہم وعدوں کا اعلان کیا ہے اس کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کے بعد اس نتیجہ پر پہونچیں ہیں کہ کانگریس نے جو وعدے کئے ہیں اس سے بہتر اور پرکشش وعدے عوام سے کئے جائیں تاکہ عوام میں پائی جانے والی ناراضگی کو دور کرتے ہوئے ان کا دل جیت لیا جاسکے۔ ساتھ ہی بی آر ایس کی جانب سے جو وعدے کئے جارہے ہیں ان پر ہونے والے اخراجات کے تعلق سے ماہرین معاشیات سے بھی تبادلہ خیال کررہے ہیں اور ان وعدوں کا اعلان کرنے کیلئے مناسب وقت اور تاریخ کا اعلان کررہے ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ آئندہ ماہ اکٹوبر کے دوسرے یا تیسرے ہفتہ میں ورنگل میں ایک بہت بڑا جلسہ عام منعقد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں ، اُس جلسہ عام سے بھی یہ وعدے کئے جاسکتے ہیں اس کے علاوہ ہر طبقہ ، سرکاری ایمپلائیز ، ایس سی ۔ ایس ٹی ، اقلیتوں اور بی سی طبقات کیلئے بھی علحدہ علحدہ اعلانات کرتے ہوئے عوام کے درمیان مسلسل برقرار رہنے کی بھی حکمت عملی پر غور کیا جارہا ہے ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس نے جن وعدوں کا اعلان کیا ہے اس کی کوئی گیارنٹی نہیں ہے ۔ انھیں یقین ہوگیا ہے کہ وہ تلنگانہ میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکتی اس لئے کبھی پورے نا ہونے والے وعدے کرتے ہوئے عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ کے ٹی آر نے آج ڈبل بیڈروم مکانات تقسیم کرنے کے ایک پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ کانگریس جن ریاستوں میں برسراقتدار ہے وہاں تلنگانہ کے عوام سے جو وعدے کئے گئے ہیں اُن وعدوں پر کوئی عمل آوری نہیں کی جارہی ہے ۔ عوام کانگریس پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے مستقبل کو تباہ و برباد نہ کریںبلکہ بی آر ایس پر بھروسہ کریں۔ غریب عوام کیلئے ہمدردانہ دل رکھنے والے کے سی آر جیسا کوئی دوسرا چیف منسٹر نہیں ہے ۔ کانگریس نے جو اعلانات کئے ہیں اُس سے بھی بہتر اعلانات کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر جائزہ لے رہے ہیں۔ چیف منسٹر کے سی آر اس کا بہت جلد سرکاری طورپر اعلان کریں گے ۔ عوام صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں ، عجلت پسندی میں کوئی غلط فیصلہ نہ کریں۔ ن