88 ارکان اسمبلی میں 42 ارکان سابق میں تلگودیشم سے وابستہ
18 رکنی وزارت میں 11 کا تعلق تلگودیشم سے
حیدرآباد: 18 جولائی (سیاست نیوز) علیحدہ تلنگانہ جدوجہد کے لیے قائم کردہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی جو حال ہی میں بھارت راشٹرا سمیتی میں تبدیل ہوچکی ہے وہ دراصل تلگودیشم پارٹی سے شامل ہونے والے قائدین کی اکثریت پر مشتمل ہے۔ 2018ء اسمبلی انتخابات بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے 88 ارکان اسمبلی میں 42 کا تعلق سابق میں تلگودیشم سے رہ چکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلنگانہ تحریک کی قیادت کرنے والے کے چندر شیکھر رائو خود بھی تلگودیشم بیاک گرائونڈ کے حامل ہیں اور چندرا بابو نائیڈو حکومت میں شامل نہ کئے جانے پر ناراض ہوکر تلگودیشم سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ چندرا بابو نائیڈو نے کے سی آر کو ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کے عہدے پر فائز کیا جس کے بعد وہ عہدے سے مستعفی ہوگئے اور علیحدہ تلنگانہ کی جدوجہد کا آغاز کیا۔ کے سی آر کے سیاسی سفر کا آغاز دراصل کانگریس سے ہوا ہے۔ کے سی آر اور ان کی پارٹی کے قائدین تلنگانہ کی مخالفت کرنے والوں کو غدار قراردیتے ہیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ کسی زمانے میں علیحدہ تلنگانہ کے کٹر مخالفین آج نہ صرف ارکان اسمبلی و کونسل کے عہدوں پر فائز ہیں بلکہ 18 رکنی وزارت میں 11 کا تعلق تلگودیشم سے رہ چکا ہے۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پارٹی اور وزارت دونوں پر سابق تلگودیشم قائدین کا غلبہ ہوچکا ہے۔ سوشل میڈیا پر بی آر ایس میں سابق تلگودیشم قائدین کی موجودگی پر اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے عوام کی جانب سے مختلف تبصرے کئے جارہے ہیں۔ تلگودیشم سے شامل ہونے والے قائدین کی اکثریت کی بنیاد پر سوشل میڈیا پر بی آر ایس کو ’’بابو۔رائو سمیتی‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ تلگودیشم اور کانگریس کے ٹکٹ پر اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد عہدے سے استعفیٰ دیئے بغیر انحراف کرنے والوں کو ریاستی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ ر