بی آر ایس میں ناراض سرگرمیاں ، 40 موجودہ ارکان کو دوبارہ ٹکٹ خطرہ میں

   

حیدرآباد ۔30۔ جون (سیاست نیوز) انتخابات کی تیاریوں کیلئے برسر اقتدار بی آر ایس متحرک ہوچکی ہے۔ تاہم پارٹی میں ناراض سرگرمیاں قیادت کیلئے درد سر بن چکی ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے سروے رپورٹ کی بنیاد پر پارٹی ٹکٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن موجودہ ارکان اسمبلی کی اکثریت دوبارہ ٹکٹ دینے قیادت پر دباؤ بنائے ہوئے ہیں۔ پارٹی ٹکٹ کے مسئلہ پر قائدین میں ناراضگی دیکھی جارہی ہے اور کئی قائدین نے دھمکی دی کہ اگر انہیں ٹکٹ کا تیقن نہیں دیا گیا تو وہ کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ کانگریس اور دیگر پارٹیوں سے شامل قائدین کو دوبارہ ٹکٹ پر مقامی بی آر ایس قائدین ناراض ہیں۔ گریٹرحیدرآباد کے مہیشورم اسمبلی حلقہ میں سابق رکن اسمبلی اور سابق میئر ٹی کرشنا ریڈی نے سبیتا اندرا ریڈی کو دوبارہ دینے کی مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کانگریس سے شامل سبیتا اندرا ریڈی کو ٹکٹ دینے پر کانگریس میں شمولیت کی دھمکی دی ہے۔ مہیشورم حلقہ سے 2018 ء میں سبیتا اندرا ریڈی نے کانگریس ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی تھی اور بعد میں بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ بی آر ایس کیلئے ناراض قائدین کو منانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی ارکان اسمبلی اپنے بچوں کو ٹکٹ کی سفارش کر رہے ہیں جن میں اسپیکر اسمبلی پوچارام سرینواس ریڈی سرفہرست ہیں۔ قانون ساز کونسل کے صدرنشین سکھیندر ریڈی بھی اپنے فرزند کو ٹکٹ کیلئے مساعی کر رہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد کے بیشتر حلقوں میں ٹکٹ الاٹمنٹ میں ناراض سرگرمیاں پارٹی کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ر