بی آر ایس میں ڈکٹیٹرشپ ‘ فلاحی اسکیمات میں کمیشن

   

ایم ہنمنت راؤ کا استقبال ۔ کانگریس میںشمولیت کے بعد شہر واپسی پر شاندار خیر مقدم کیا گیا

حیدرآباد 2 ستمبر ( سیاست نیوز ) رکن اسمبلی ملکاجگری ایم ہنمنت راؤ نے ‘ جو حال ہی میں دہلی میںکانگریس میں شامل ہوئے ہیں ‘ آج حیدرآباد اوپسی کی جس پر ان کے حامیوں نے شاندار استقبال کیا ۔ واضح رہے کہ ایم ہنمنت راؤ نے ملکاجگری سے خود کے علاوہ حلقہ میدک سے اپنے فرزند ایم روہت کیلئے ٹکٹ کا مطالبہ کیا تھا جسے بی آر ایس نے قبول نہیں کیا تھا ۔ پارٹی نے صرف ایم ہنمنت راؤ کو ہی ٹکٹ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ہنمنت راؤ نے بی آر ایس سے مستعفی ہو کر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی ۔ حیدراباد واپسی کے بعد ہنمنت راؤ نے بی آر ایس پر شدید تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی قائدین سرکاری اسکیمات کے استفادہ کنندگان سے کمیشن حاصل کر رہے ہیں۔ ہنمنت راؤ نے خاص طور پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر الزام عائد کیا کہ وہ آمرانہ اور ڈکٹیٹر شپ والا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں ناراض اور مخالفانہ آوازوں کو دبایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ریاست میں آمرانہ اور ڈکٹیٹر شپ طرز حکومت کو ختم کرتے ہوئے حقیقی جمہوریت کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے ریاستی پولیس کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ ان کا خیر مقدم کرنے کیلئے دور دراز مقامات سے آنے والے حامیوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ کئی مقامات پر چیک پوسٹس قائم کئے گئے اور ائرپورٹ تک پہونچنے سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔ ایم ہنمنت راؤ نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ ریاستی حکومت نے تلگودیشم سربراہ این چندرا بابو نائیڈو کی تائید میں احتجاجی مظاہروں پر روک لگا دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نائیڈو نے ہی تلنگانہ میں آئی ٹی کمپنیوں کے قیام میں اہم رول ادا کیا تھا جس سے ہزاروں افراد کو روزگار حاصل ہوا تھا ۔ اس دوران ایم ہنمنت راؤ کی کانگریس میں شمولیت سے ناراض میڑچل ضلع کانگریس صدر این سریدھر نے کانگریس سے استعفی پیش کردیا ہے اور امکان ہے کہ وہ بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلیں گے ۔ این سریدھر نے ہنمنت راؤ کی کانگریس میں شمولیت پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا ۔