بی آر ایس نے مسلمانوں کا اعتماد کھودیا ہے ۔ جماعت اسلامی

   

9 برس مسلسل نظر انداز کیا گیا ۔ مسلم مسائل پر عدم توجہ اور وعدوں سے انحراف کی شکایت ۔ ریاستی وزراء کی ملاقات

حیدرآباد 26 اکٹوبر(سیاست نیوز) جماعت اسلامی نے ریاستی وزراء کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس نے مسلمانوں کا اعتماد کھودیا ہے اور اپنے اقتدار میں جماعت اسلامی کو بھی نظرانداز کرکے مسلمانوں کے مسائل کوحل کرنے میںناکام رہی ۔ جماعت اسلامی ذمہ داروں کے وفد نے گذشتہ دنوں کے ٹی راما راؤ اور ہریش راؤ سے ملاقات کرکے آلیر انکاؤنٹر ‘ عبدالقدیر خان کی پولیس حراست میں زدوکوب کے سبب موت‘ مسلم مسائل میں جماعت سے مشاورت کی بجائے سیاسی قوت کو ترجیح دیتے ہوئے یہ باور کروانے کی کوشش کہ ریاست کے تمام مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت مجلس ہی ہے ان پر دو ٹوک گفتگو کرکے انہیں گذشتہ 9 برسوں میں ناکامیوں کے متعلق واقف کروایا اور کہا کہ جماعت اسلامی نے تحریک تلنگانہ میں ’مسلم گرجنا ‘ کے علاوہ دیگر پروگرامس کے ذریعہ مسلمانوں کو تحریک تلنگانہ سے قریب کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد جماعت سے مسلمانوں کی ترقی اور ا ن کی فلاح و بہبود پر مشاورت سے بھی گریز کیا جاتا رہا اور کبھی جماعت کے ذمہ داروں کو چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ملاقات کے لئے وقت فراہم نہیں کیا بلکہ جماعت اسلامی کو بھی مسلم وفد کے ساتھ ہی ملاقات کرنی پڑی ہے۔ وزراء سے ملاقات میں جماعت کے سابق امیر حلقہ جناب حامد محمد خان‘ امیرحلقہ جناب خالد مبشرالظفر ‘ جناب محمد اظہر الدین و دیگر موجود تھے ۔وزراء نے جماعت کے ذمہ داروں کو تیقن دیا کہ دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد جماعت کو تین ماہ میں کم از کم ایک مرتبہ ملاقات کیلئے وقت فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ آلیر انکاؤنٹر کے متعلق استفسار پر وزراء نے حیرت کا اظہار کرکے کہا کہ کیا تلنگانہ کے مسلمانوں کے ذہنوں میں آلیر انکاؤنٹر کا واقعہ اب بھی تازہ ہے! ذمہ داروں نے انہیں زمینی حقائق سے واقف کروایا اور کہا کہ صرف آلیر انکاؤنٹر نہیں بلکہ بی آر ایس اقتدار میں مسلمانوں سے تمام وعدے اور ان پر عدم عمل آوری سے بھی مسلمان واقف ہیں اور سب کچھ یادہے۔ ذرائع کے مطابق ملاقات میں وزراء نے 9 سالہ اقتدار کی غلطیوں کا دوبارہ اعادہ نہ کرنے کا تیقن دیتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کو تیسری مرتبہ اقتدار حاصل کرنے میں مدد کی خواہش کی جس پر جماعت نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی میں شورائی نظام ہے اور تعلقہ و ضلع کے اساس پر رپورٹ کے بعد کسی کی تائید پر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔