تلنگانہ بھون میں 3 گھنٹے طویل پاور پوائنٹ پریزنٹیشن، متحدہ آندھرا پردیش سے تلنگانہ کے ساتھ نانصافی
حیدرآباد۔ 4 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر اور سابق وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ نے دریاؤں کے پانی کی تقسیم کے مسئلہ پر کانگریس کے الزامات کو مسترد کردیا اور پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعہ دعویٰ کیا کہ 10 سالہ دور حکومت میں کے سی آر نے آبی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ 3 گھنٹے طویل پریزنٹیشن کا عنوان ’دریاؤں کا پانی اور کانگریس کی دھوکہ ‘ رکھا گیا تھا۔ تلنگانہ بھون میں ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی و کونسل اور سینئر قائدین کی موجودگی میں ہریش راؤ نے گزشتہ 10 برسوں کے دوران کرشنا اور گوداوری کے پانی میں تلنگانہ کی حصہ داری کیلئے بی آر ایس کی جدوجہد کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش نے تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کیلئے کانگریس ذمہ دار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کرشنا طاس کا حصہ 68 فیصد ہے باوجود اس کے 34 فیصد پانی الاٹ کیا گیا جبکہ آندھرا پردیش کو 66 فیصد حصہ داری دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے ناانصافی کی بنیاد کانگریس ہے۔ بی آر ایس حکومت نے کبھی بھی ناانصافیوں پر سمجھوتہ نہیں کیا ہے۔ ہریش راؤ نے چیف منسٹر کے دعوے کو مسترد کردیا کہ بی آر ایس حکومت نے کرشنا کے پانی میں محض 299 ٹی ایم سی سے اتفاق کیا تھا۔ ہریش راؤ نے کے سی آر کی جانب سے مرکز کو روانہ کردہ 30 سے زائد مکتوب پیش کئے جس میں مناسب حصہ داری کا مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے ایوان کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ریونت ریڈی کو اقتدار پر برقراری کا حق نہیں اور انہیں اخلاقی طور پر استعفی دیدینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی نے بی آر ایس قائدین کے خلاف غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال کیا ہے۔ کانگریس کو تلنگانہ کا حقیقی ویلن قرار دیتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ ریونت ریڈی اور اتم کمار ریڈی نے اسمبلی میں غلط اعداد و شمار پیش کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فضل علی کمیشن کی سفارشات کے باوجود تلنگانہ کو آندھرا پردیش میں ضم کرنا کانگریس کی فاش غلطی اور تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی تھی۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے 2023 کے دوران تلنگانہ میں آبپاشی کے سنہری دور رہا۔ بی آر ایس حکومت نے 9 سال میں 17.24 لاکھ ایکر اضافی اراضی کو سیراب کیا۔ 2004 سے 2014 کے مقابلہ بی آر ایس نے 10 گنا زائد اراضی کو پانی سیراب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے کرشنا کے پراجکٹس کو ریور منیجمنٹ بورڈ سے رجوع کرتے ہوئے کانگریس حکومت نے آبی حقوق پر سمجھوتہ کیا ہے۔ انہوں نے بی آر ایس حکومت پر عائد کردہ الزامات کی تردید کی اور کہا کہ حقائق سے خوفزدہ ہوکر اسمبلی میں پرزنٹیشن کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے اسپیکر کے رویہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ 1