پارٹی کیڈر میں شبہات، انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کویتا کو نوٹس کے بعدتقویت
حیدرآباد۔/17ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں بی آر ایس اور بی جے پی مفاہمت کا مسئلہ دونوں پارٹیوں کیلئے عوامی ناراضگی کا سبب بن چکا ہے۔ عوام میں واضح یہ تاثر ہے کہ دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے کے مفاد میں خفیہ مفاہمت کرلی ہے تاکہ تلنگانہ میں بی آر ایس اور مرکز میں بی جے پی کا اقتدار برقرار رہے۔ مفاہمت سے متعلق عوامی تاثر کو ختم کرنے کی مساعی دونوں پر اُلٹی پڑتی دکھائی دے رہی ہے اور عوام وضاحتوں پر بھروسہ کرنے تیار نہیں ہیں۔ بی جے پی قائدین عوام کو سمجھانے میں دشواری محسوس کررہے ہیں حتیٰ کہ وہ اپنے کیڈر کو مطمئن کرنے میں ناکام ہیں۔ مفاہمت کی بات عوام کے ساتھ دونوں پارٹیوں کے نچلی سطح کے کیڈر تک پہنچ چکی ہے۔ بی جے پی قائدین کا کہنا ہے کہ کانگریس نے دونوں میں مفاہمت کا جو الزام عائد کیا ہے اس سے اُبھرنا مشکل ہوچکا ہے۔ اس معاملہ کو اس قدر دہرایا گیا کہ بی جے پی کارکن خود بھی شبہات میں مبتلاء ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ دنوں بی آر ایس رکن کونسل کویتا کو ای ڈی کی نوٹس نے مفاہمت کے الزامات کو تقویت پہنچائی ہے۔ شراب اسکام میں سپریم کورٹ نے ای ڈی کو 26 ستمبر تک کسی بھی کارروائی سے روک دیا تھا باوجود اس کے ڈائرکٹوریٹ نے نوٹس جاری کرکے حاضر ہونے کی ہدایت دی ہے۔ کویتا نے اس معاملہ میں سپریم کورٹ سے راحت حاصل کرلی ہے۔ بی جے پی کا کہنا ہے کہ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی نوٹس کے بعد کیڈر میں یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ بی آر ایس کی مدد کیلئے یہ نوٹس جاری کی گئی۔ کارکن سوال کررہے ہیں کہ ای ڈی نے اب تک سمن جاری کیوں نہیں کیا اور کویتا کے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے سے عین قبل نوٹس کے پس پردہ کیا محرکات ہیں۔ ای ڈی سمن سے بی جے پی کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ دکھائی دے رہا ہے۔ بی آر ایس اور بی جے پی قیادت اپنے کارکنوں کو سمجھانے میں دشواری محسوس کررہی ہے۔ کانگریس کی قومی قیادت نے مفاہمت کا مسئلہ پوری شدت کے ساتھ اٹھایا ہے جس پر عوام آسانی سے بھروسہ کررہے ہیں۔