موسیٰ ندی کے متاثرین کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، بلڈرس کو بلیک میل کرنے کے لیے حیڈرا کا استعمال
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے کہا کہ پارٹی موسیٰ ندی متاثرین کے مفادات کا مکمل تحفظ کرے گی ۔ ریونت ریڈی کی جانب سے روانہ کئے جانے والے بلڈوزرس کے سامنے ہم کھڑے ہوں گے ۔ متاثرین کو ہرگز پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ آج تلنگانہ بھون میں جی ایچ ایم سی کے حدود میں شامل بی آر ایس کے ارکان اسمبلی ، ارکان قانون ساز کونسل کے علاوہ دیگر اہم قائدین کا اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ بی ار ایس کے دور حکومت میں موسیٰ ندی کی خوبصورتی کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا ۔ جب یہ تجویز اس وقت کے چیف منسٹر کے سی آر سے رجوع کی گئی تو انہوں نے اس پر آدھا گھنٹہ تک تبادلہ خیال کیا اور کہا کہ اس تجویز سے زیادہ تر غریب لوگوں کو نقصان ہوگا ۔ غریبوں کو نقصان پہونچائے بغیر ان کی روٹی روزی کا خیال رکھتے ہوئے اور ایک تجویز تیار کرنے کی ہدایت دی تھی ۔ ناگول کے پاس پانچ کلو میٹر تک واکنگ ٹریک ، اوپن ایر جمس ، پارکس قائم کرنے کے علاوہ اپل بھگایت تک خوبصورتی کو فروغ دیا گیا ۔ غریبوں کو نقصان نہیں پہونچایا گیا ۔ صد فیصد ایس ٹی پیز کو اہمیت دی گئی ۔ موسیٰ ندی کے طاس میں رہنے والوں کو 50 سال قبل حکومت ہی پٹہ فراہم کرتے ہوئے رجسٹریشن کر کے دیا تھا ۔ عوام کے ذریعہ برقی اور پانی کا بل وصول کیا گیا ۔ آج انہیں نوٹس دیتے ہوئے گھروں سے بے دخل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جس کو بی آر ایس پارٹی ہرگز قبول نہیں کرے گی بلکہ متاثرین کا ہر طریقے سے ساتھ دے گی ۔ بلڈرس اور صنعتکاروں کو ڈرانے دھمکانے اور بلیک میل کرتے ہوئے پیسے وصول کرنے کے لیے حیڈرا کی سرگرمیاں چلائی جارہی ہیں ۔ کوکٹ پلی میں 1980 کے دوران کانگریس حکومت نے 20 ہزار افراد میں پٹہ جات تقسیم کیا ۔ آج ان پٹوں کو غیر قانونی قرار دیا جارہا ہے ۔۔ 2