بی آر ایس کو اسپیکر اسمبلی کو ہدایات دینے سے گریز کا مشورہ : سریدھر بابو

   

اپنی مرضی مسلط کرنا جمہوری عمل نہیں، اسمبلی میں بی آر ایس کی مداخلت پر وزیر امور مقننہ کی وضاحت
حیدرآباد ۔25 ۔ مارچ (سیاست نیوز) وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے بی آر ایس ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ اسپیکر قانون ساز اسمبلی کو ہدایات دینے سے گریز کریں۔ قانون ساز اسمبلی میں وزراء کی جانب سے سرکاری بلز کو متعارف کئے جانے کے موقع پر بی آر ایس ارکان نے مداخلت کرتے ہوئے بلز کی تفصیلات پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسپیکر پرساد کمار نے کہا کہ بلز کو متعارف کرنے کے موقع پر تفصیلات پیش کرنے کی روایت نہیں ہے۔ بل کو جب منظوری کیلئے پیش کیا جائے ، اس وقت حکومت بل کی وجوہات بیان کرتی ہے۔ بی آر ایس ارکان کے اصرار پر وزیر امور مقننہ ڈی سریدھر بابو نے مداخلت کی اور کہا کہ ہر معاملہ میں بی آر ایس ارکان اسپیکر کو ہدایات دینے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ پارلیمانی جمہوریت میں صحت مند روایت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے اشارہ پر ایوان کی کارروائی کو چلانے کی کوشش افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں اپوزیشن کے ساتھ جو سلوک کیا گیا ، اس کا محاسبہ کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ دس برسوں میں برسر اقتدار پارٹی نے اپنی مرضی کے مطابق ایوان کو چلایا اور اپوزیشن کو اظہار خیال کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ لیڈر آف اپوزیشن ایوان میں موجود رہتے ہیں تو اسپیکر کو اظہار خیال کی اجازت دینا ضروری ہے۔ بی آر ایس کے ڈپٹی لیڈر ہریش راؤ اس طرح کا مطالبہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ میں صلاحیت موجود ہے اور وہ لیڈر آف اپوزیشن کے عہدہ پر فائز ہوسکتے ہیں۔ جس دن وہ لیڈر آف اپوزیشن کے عہدہ پر فائز ہوں گے ، اس دن اسپیکر انہیں ہر موقع پر اظہار خیال کی اجازت دیں گے۔1