بی آر ایس کو دھکہ، نرمل اور حیدرآباد کے 2 اہم قائدین کی کانگریس میں شمولیت

   

سونیا گاندھی کو تلنگانہ میں اقتدار کا تحفہ، کے سی آر خاندان اور عوام کے درمیان مقابلہ: ریونت ریڈی

حیدرآباد۔/14 جون، ( سیاست نیوز) تلنگانہ کی برسراقتدار بی آر ایس کو آج ضلع نرمل اور حیدرآباد میں اس وقت دھکہ لگا جب پارٹی کے دو اہم قائدین نے آج کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ نرمل ضلع میں بی آر ایس کے سینئر لیڈر سری ہری راؤ اور سکندرآباد کے سینئر لیڈر این پرکاش گوڑ نے اپنے حامیوں کے ساتھ کانگریس ہیڈ کوارٹر گاندھی بھون پہنچ کر شمولیت کا اعلان کیا۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے سری ہری اور پرکاش گوڑ اور ان کے حامیوں کا کانگریس میں استقبال کیا۔ دونوں قائدین بڑے جلوس کی شکل میں گاندھی بھون پہنچے اور آتشبازی کی گئی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ تشکیل دینے والی قائد سونیا گاندھی کو اظہار تشکر کے طور پر آئندہ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو برسر اقتدار لاتے ہوئے تحفہ پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نرمل سے تعلق رکھنے والے سری ہری راؤ کو کانگریس میں مناسب اور قابل احترام مقام دیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ پارٹی کی کامیابی کیلئے محنت کرنے والوں کو شناخت حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ نرمل اسمبلی حلقہ میں کانگریس کا پرچم لہرائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوڑنگل میں کامیابی جس طرح اہمیت کی حامل ہے اسی طرح وہ نرمل اسمبلی حلقہ میں کانگریس کی کامیابی پر توجہ مرکوز کریں گے۔ نرمل کے وزیر انڈومنٹ اندرا کرن ریڈی کو چیلنج کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہا کہ نرمل اسمبلی حلقہ میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی تعمیر کی تفصیلات جاری کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ جن گاؤں میں ڈبل بیڈ روم مکانات تعمیر کئے گئے وہیں سے ووٹ کی اپیل کریں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ عوام کے سی آر کے دھوکہ کو مزید برداشت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ عادل آباد ضلع کی 10 اسمبلی نشستوں میں کم از کم 8 پر کانگریس کامیابی حاصل کرے گی۔ آئندہ اسمبلی انتخابات میں کے سی آر خاندان اور عوام کے درمیان مقابلہ رہے گا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کی ترقی میں کانگریس کا اہم رول ہے۔ کے ٹی آر اور ڈی ناگیندر کو چیلنج کیا کہ حیدرآباد میں میٹرو ٹرین کے آغاز کی وضاحت کریں۔ کانگریس دور حکومت میں میٹرو ٹرین کی تعمیر عمل میں آئی تھی۔ حیدرآباد میں فسادات کا خاتمہ اور بین الاقوامی اداروں کی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع کانگریس دور حکومت میں انجام پائے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین نے صرف اراضیات پر قبضے کئے ہیں۔ موسی ندی کی اراضی پر بھی قبضہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد کے عوام مزید ترقی کیلئے کانگریس کے اقتدار کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گریٹر حیدرآباد کی اکثریتی نشستوں پر کانگریس کامیاب ہوگی۔ر