کے سی آر کو نوٹس بکھلاہٹ کا ثبوت، بلدی انتخابات میں کانگریس کو قیمت چکانی پڑیگی
حیدرآباد۔ 30 جنوری (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل داسوجو شراون نے سابق چیف منسٹر کے سی آر کو ایس آئی ٹی کی جانب سے جاری کردہ نوٹس کو حکومت کی انتقامی کارروائی کی کھلی مثال قرار دیتے ہوئے اس کو یوم سیاہ قرار دیا۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے داسوجو شراون نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت اخلاقی جرأت سے عاری ہے اور اسی کمزوری کو چھپانے کے لئے منحرف اور انتقامی سیاست میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ صرف 24 مہینوں میں ایس آئی ٹی نے تلنگانہ تحریک کے اصل روح رواں کے سی آر کو دو مرتبہ نوٹس جاری کی ہے جس سے کانگریس حکومت کی بدنیتی ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ بلدی انتخابات میں حکمران کو سبق سکھائیں گے۔ شراون نے الزام عائد کیا کہ کانگریس حکومت بی آر ایس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور گرام پنچایت میں شاندار کامیابی سے خوفزدہ ہوکر سستی اور سازشی سیاست کا سہارا لے رہی ہے۔ بی آر ایس کے ایم ایل سی نے کہا کہ پارٹی صدر کے سی آر نے تلنگانہ تحریک کے دوران ایسی کئی سازشوں کا سامنا کیا اور اس کو ناکام بھی بنایا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور کانگریس حکومت کی سازشوں سے ڈرنے گھبرانے والے نہیں ہیں بلکہ پارٹی مزید شدت کے ساتھ حکومت کی ناکامیوں کا عوام کے درمیان پردہ فاش کرتے رہے گی۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں اور عوام سے بلدی انتخابات میں کانگریس کو منہ توڑ جواب دینے کی اپیل کی۔ داسوجو شراون نے واضح کیا کہ عوامی طاقت کے ذریعہ ہی کانگریس کی سازشی سیاست کا خاتمہ ممکن ہے اور بلدیاتی انتخابات اس کا بہترین موقع ہے۔ 2