بی آر ایس کی تائید کے مسئلہ پر تنظیموں اور نمائندوں میں اختلافات

   

تلنگانہ میں برسر اقتدار پارٹی مسلم ووٹوں سے محروم، حکومت سے شدید ناراض

حیدرآباد۔8 ۔ ستمبر۔ (سیاست نیوز) تلنگانہ میں بھارت راشٹرسمیتی بڑی تعداد میں مسلم ووٹ سے محروم ہوچکی ہے لیکن اس کے باوجود بعض مسلم تنظیموں کی جانب سے بی آر ایس کی تائید کا جواز نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے حالانکہ ان تنظیموں کے ذمہ داروں اور متحرک قائدین کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں ریاست کے مختلف اضلاع میں ان کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران اس بات کا انکشاف ہورہا ہے کہ موجودہ حکومت سے شدید ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں مسلم تنظیموں اور مسلم تنظیموں کے نام نہاد اتحاد اور محاذوں کی جانب سے آئندہ انتخابات کے دوران بی آر ایس کی تائید کی کوئی وجہ دستیاب نہیں ہے کیونکہ اسی لئے اب ان تنظیموں کے ذمہ داروں اور نمائندوں کے درمیان اختلافات پیدا ہونے لگے ہیں ۔ مسلم تنظیموں کے ذمہ داروں اور سرکردہ قائدین جو کہ سیاسی قائدین اور ارباب حکومت سے قربت رکھتے ہیں وہ ضلعی نمائندوں کو بھارت راشٹرسمیتی کے خلاف محاذ آرائی سے فی الوقت گریز کا مشورہ دے رہے ہیں لیکن ضلعی نمائندے جو مذہبی تنظیموں سے وابستہ ہیں زمینی حقائق کے مدنظر بی آر ایس کی تائید کے حق میں نہیں ہیں ۔ پڑوسی ریاست کرناٹک کے انتخابات میں مسلمانوں کے ووٹوں کے متحدہ استعمال کے نتیجہ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہونے والی شکست کو نظر میں رکھتے ہوئے ریاست کے اضلاع میں مسلم سیاسی جماعتوں کے ذمہ داروں کی جانب سے مسلم ووٹ کو متحد کرنے کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جار ہی تھی لیکن ان کی کوششوںکو قبل از وقت بھانپتے ہوئے ریاست میں برسراقتدار حکومت نے ان تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کے ذریعہ انہیں دوبارہ اپنا حامی بنانے کی کوشش کی ہے لیکن ان سرکردہ قائدین کے ساتھ خدمات انجام دینے والے ضلعی نمائندے جو زمین پر مسلمانوں کے درمیان خدمات انجام دے رہے ہیں وہ آئندہ انتخابات میں بی آر ایس کی حمایت کے سلسلہ میں اپنے ذمہ داروں سے اتفاق کرنے کے موقف میں نہیں ہیں کیونکہ ان کا کہناہے کہ شہر میں رہتے ہوئے چیف منسٹر سے ملاقات کرتے ہوئے مواضعات اور مجموعی طور پر مسلمانوں کے ساتھ کی گئی ناانصافیوں کے باوجود مسلمانوں کے درمیان پہنچ کر بی آر ایس کی تائید نہیں کی جاسکتی ۔ضلعی و ریاستی ملی و مذہبی تنظیموں کے ذمہ داران کے درمیان پیدا ہونے والے اس اختلاف کے متعلق کہا جارہا ہے کہ حکومت یہ صورتحال پیدا کرنا چاہتی تھی اور اس میں کامیاب ہونے لگی ہے کیونکہ اگر مسلم تنظیموں کے مختلف گوشوں سے مختلف بیانات اور تائید کے معاملہ میں اختلافات کا اظہار ہوتا ہے تو ایسی صورت میں ریاست کے مسلمانوں کے ووٹ کو منقسم کرنے کی سازش کامیاب ہوگی اسی لئے ریاست کے مسلمانوں کو چوکنا و چوکس رہتے ہوئے اس طرح کی کسی بھی سازش کو کامیاب ہونے سے روکنا چاہئے اور اپنے ووٹوں کو تقسیم کرنے کی سازش کو عملی جامہ پہنانے سے روکنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئے ۔