حیدرآباد۔ 22 نومبر (سیاست نیوز) ملک سے فرقہ پرستی کے خاتمہ اور فسطائی طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھنے کیلئے بی آر ایس ہر ممکنہ جدوجہد کرے گی اور سیکولرازم کیلئے آخری دم تک اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔ ریاستی وزیر فینانس و صحت ہریش راؤ نے پرانے شہر میں علماء برادری کے اجلاس سے مخاطب تھے۔ جمعیۃ العلمائے ہند (ارشد مدنی) کی جانب سے آج رحمانیہ میں منعقدہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے جمعیۃ العلماء کے ذمہ داروں سے بی آر ایس کی تیسری مرتبہ کامیابی کی دعاء کی درخواست کی۔ انہوں نے ریاست میں مسلم مسائل کی یکسوئی اور دیرینہ مسائل کو حل کرنے میں بی آر ایس کی سنجیدگی سے واقف کروایا۔ انہوں نے علماء کو تیقن دیا کہ وہ ہمیشہ ان کیلئے دستیاب رہیںگے۔ ہریش راؤ نے کہا کہ وہ وعدہ نہیں کریں بلکہ تیقن دیتے ہیں کہ حکومت میں مسلمانوں کے نمائندہ کے طور پر موجود رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے مخالفین میں بی آر ایس سرفہرست ہے۔ ہریش راؤ نے کانگریس اور دیگر جماعتوں کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ یہ جماعتیں بی آر ایس کی مقبولیت اور اقلیت دوستی سے پریشان ہوکر بدنام کرنے کیلئے بی آر ایس کو بی جے پی سے جوڑنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے سکریٹریٹ کے علاوہ دیگر مساجد کی تعمیر بالخصوص کتہ گوڑم اور ایئرپورٹ کیلئے مفتی محمود زبیر قاسمی کی درخواست پر اقدام کا تیقن دیا۔ اس اجلاس میں صدر جمعیۃ العلمائے ہند (ارشد مدنی)، مفتی غیاث الدین رحمانی، جنرل سکریٹری مفتی محمود زبیر قاسمی کے علاوہ مولانا عبدالسمیع، مولانا فرحان، مفتی عقیل، مولانا کلیم، مولانا ساجد، مفتی مسعود، حافظ فہیم و دیگر موجود تھے۔ علاوہ ازیں اجلاس میں تلنگانہ کے تمام اضلاع سے تعلق رکھنے والے جمعیۃ کے عہدیداروں نے بھی شرکت کی۔ ع