بی آر ایس کے ایم ایل سی کانگریس سے رابطہ میں

   

کرناٹک کے نتائج کے بعد تلنگانہ میں بیشتر قائدین کانگریس میں شامل ہونے کیلئے تیار

حیدرآباد ۔ 10 جون (سیاست نیوز) حکمراں بی آر ایس پارٹی کو ایک بہت بڑا جھٹکہ لگنے کے امکانات ہیں۔ متحدہ ضلع محبوب نگر کے بی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل کے دامودھر ریڈی کانگریس قائدین سے رابطے میں آ گئے ہیں۔ وہ اپنے فرزند راجیش کے ساتھ کانگریس میں شامل ہونے کی کوشش کررہے ہیں۔ ضلع کھمم میں سابق رکن پارلیمنٹ پی سدھاکر ریڈی اور ضلع محبوب نگر میں سابق وزیر جے کرشنا راؤ نے بی آر ایس میں پارٹی قیادت کے خلاف آواز اٹھائی تھی جنہیں چیف منسٹر نے بی آر ایس سے معطل کردیا ہے۔ اب یہ دونوں قائدین کانگریس سے رابطے میں ہیں اور کسی بھی وقت کانگریس میں شامل ہوسکتے ہیں۔ اسمبلی حلقہ ناگرکرنول کی نمائندگی کرنے والے بی آر ایس کے رکن اسمبلی ایم جناردھن ریڈی سے دامودھر ریڈی کے اختلافات ہیں جس پر انہوں نے پارٹی قیادت سے کئی مرتبہ تبادلہ خیال کیا ہے تاہم کوئی نتیجہ برآمد نہ ہونے پر بی آر ایس سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل ہونے کا تقریباً فیصلہ کرلیا ہے۔ ذرائع سے پتہ چلتا ہیکہ وہ مقابلہ کرنے کے بجائے اپنے فرزند کو مقابلہ کرانا چاہتے ہیں اور کانگریس قائدین سے رابطے میں ہیں۔ ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ سابق وزیر جے کرشنا راؤ نے بھی ایم ایل سی جناردھن ریڈی سے رابطہ پیدا کیا ہے اور انہیں کانگریس میں شامل ہونے کا مشورہ دیا جس پر انہوں نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ آج جے کرشنا راؤ نے کانگریس کے سینئر قائد ملو روی سے ملاقات کی ہے۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی دامودھر ریڈی کے علاوہ اپنے دوسرے حامیوں کی شمولیت کے تعلق سے بھی تبادلہ خیال کیا ہے اور بہت جلد دامودھر ریڈی بھی ملو روی سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے بعد حکمران بی آر ایس اور بی جے پی کے ناراض قائدین کانگریس سے رابطے میں آگئے ہیں۔ن