بی آر ایس کے خفیہ سروے کا انکشاف ،نصف سے زائد ارکان اسمبلی سے عوام ناراض!

   

٭ حیدرآباد پر گرفت مضبوط کرنے مشیرآباد سے کویتا کو امیدوار بنانے پر غور
٭ 30ارکان اسمبلی کی کارکردگی مایوس کن ، چند ارکان کو خبردار کردیا گیا

حیدرآباد ۔ 29مئی ( سیاست نیوز) عام انتخابات کی تیاریاں شروع کردینے والے بی آر ایس سربراہ و چیف منسٹر کے سی آر نے ارکان اسمبلی کی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے خفیہ سروے کا آغاز کردیا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ نصف سے زیادہ بی آر ایس کے ارکان اسمبلی کی کارکردگی سے عوام ناراض ہونے کا پتہ چلا ہے جس کے بعد چیف منسٹر نے ارکان اسمبلی کو حیدرآباد اور ضلعی ہیڈ کوارٹر پر قیام کرنے کے بجائے اپنے اپنے اسمبلی حلقوں میں پہنچ کر عوام کے درمیان رہنے کامشورہ دیا ہے ۔ 30 ایسے ارکان اسمبلی کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات ہوئے ہیں انہیں دوبارہ ٹکٹ دینے پر خود بی آر ایس کے قائدین اور کارکنوں کی تائید حاصل نہ ہونے کے اشارے ملے ہیں جس کے بعد چیف منسٹر کے سی آر تلنگانہ میں مسلسل تیسری مرتبہ کامیابی حاصل کرتے ہوئے قومی سطح پر تلنگانہ ماڈل کو پیش کرنے کیلئے ایسے ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ نہ دینے یا ان کے بجائے ان کے ارکان خاندان کو ٹکٹ دینے یا نئے چہروں کو ٹکٹ دینے کے بارے میں غور کرنے کا بھی علم ہوا ہے ۔ گریٹر حیدرآباد میں بی آر ایس پارٹی کی گرفت مزید مضبوط کرنے کیلئے اسمبلی حلقہ مشیرآباد سے اپنی دختر بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کے کویتا کو ٹکٹ دینے کے بارے میں سنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلاہیکہ چیف منسٹر نے دوسرے اسمبلی حلقوں کی طرح مشیرآباد اسمبلی حلقہ کا بھی سروے کررہا ہے جس میں مسلمانوں کے ووٹ فیصلہ کن ہونے کا پتل چلا ہے ۔ مشیرآباد اسمبلی حلقہ پر کانگریس اور بی جے پی کا بھی اثر و رسوخ ہے ۔ ایسے میں یہاں سے کویتا کو امیدوار بنایا جاتا ہے تو بی جے پی کو شکست دینے کیلئے مسلمان بی آر ایس کی تائید کرنے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ کویتا اسمبلی حلقہ مشیرآباد سے کامیاب ہوجاتیہے تو گریٹر حیدرآباد میں کے سی آر خاندان کا موقف مزید مضبوط ہوجانے کی بھی امید کی جارہیہے ۔ ماضی میں اس حلقہ کی نمائندگی کرنے والے رکن اسمبلی ایم گوپال نے بھی کویتا کو امیدوار بناے پر خیرمقدم کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ گریٹر حیدرآباد میں 24 اسمبلی حلقہ ہیں جہاں سے کے سی آر خاندان کی کوئی نمائندگی نہیں ہے ۔ اگر مستقبل میں بی آر ایس کیلئے کوئی پریشانی ہوتی ہے تو کویتا کے ذریعہ اہم تبدیلی لانے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ ذرائع سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پارٹی قیادت نے پہلے کے ٹی آر کو کوکٹ پلییا شیرلنگم پلی سے مقابلہ کرانے کی تجویز تیار کی تھی بعد میں اس سے دستبرداری اختیار کرتے ہوئے کویتا کے نام پر غور کیا جارہا ہے ۔ دوسری جانب سے موجودہ رکن اسمبلی ایم گوپال کو توقع ہے کہ پارٹی قیادت انہیں دوبارہ امیدوار بنائے گی ، وہ بھی حلقہ میں کافی سرگرم ہوچکے ہیں اور ترقیاتی و فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ ضلع ورنگل میں دونوں سابق ڈپٹی چیف منسٹرس کڈیم سریہری اور ڈاکٹر راجیا کے درمیان سخت جھگڑا ہے اور دونوں قائدین گروپ بندیوں کو فروغ دے رہے ہیں ۔ اس جھگڑے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کرنے کیلئے چیف منسٹر کے سی آر ایس سی طبقہ کیلئے مختص اسمبلی حلقہ اندول یا ظہیرآباد سے بی آر ایس کے موجودہ رکن قانون ساز کونسل کڈیم سری ہری کو امیدوار بنانے پر بھی سنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ سروے میں جن 30 ارکان اسمبلی کے خلاف ناراضگی کا پتہ چلاہے انہیں چیف منسٹر پرگتی بھون طلب کرتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا ہے اور عوام کے درمیان نہ رہنے اور پارٹی قائدین کے درمیان جو ناراضگیاں اور گروپ بندیاں ہیں اس کو دور نہ کرنے کی صورت میں ٹکٹ سے محروم کرنے کا انتباہ تودیا ہے ۔ ساتھ ہی انہیں کانگریس اور بی جے پی میں شامل ہونے سے روکنے کیلئے ٹکٹ دینے کا آخری دن تک بھروسہ دلانے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ پارٹی کو کسی طرح کا بھی نقصان نہ پہنچے ۔ پارٹی ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ چیف منسٹر کے سی آر کرناٹک میں کانگریس کی کامیابی کے بعد چوکس ہوگئے ہیں اور کسی بھی طرح کا جوکھم اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ پارٹی قیادت کیجانب سے خصوصی حکمت عملی تیار کرنے کے بعد کانگریس کو ٹارگٹ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ حیدرآباد کرناٹک علاقہ میں کانگریس پارٹی نے سب سے زیادہ اسمبلی حلقوں پرکامیابی حاصل کی ہے جس کے اثرات کرناٹک کے سرحدی تلنگانہ کے اسمبلی حلقوں پر پڑنے کے امکانات کو ہرگز نظراندازنہیں کیا جاسکتا ، اس لئے چیف منسٹر انتخابی حکمت عملی پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں ۔ بی آر ایس پارٹی کے توسیعی اجلاس میں تمام موجودہ ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دینے کا بھروسہ دلارہے ہیں ساتھ ہی ان کے وعدے میں ایک لچک بھی موجود ہے ۔اگر ارکان اسمبلی کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہئی تو ٹکٹ سے محروم ہوجانے کے وہ خود ذمہ دار ہونے کا بھی انتباہ دیا جارہا ہے ۔ ن