اسمبلی الیکشن میں حصہ لینے کی خواہش ، پرینکا گاندھی کی موجودگی میں شمولیت ہوگی
حیدرآباد۔21۔اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی وفاداری کی تبدیلیوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ کانگریس ، بی آر ایس اور بی جے پی کے ناراض قائدین اپنے لئے محفوظ نشستوں کی تلاش میں ہیں۔ بی آر ایس اور بی جے پی نے نئے قائدین کی شمولیت کی مساعی تیز کردی ہے۔تلنگانہ میں کانگریس پارٹی کے بہتر موقف اور امکانات کے نتیجہ میں بی آر ایس کے کئی عوامی نمائندوں کی جانب سے انحراف کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ جنرل سکریٹری اے آئی سی سی پرینکا گاندھی کے آئندہ ماہ دورہ حیدرآباد کے موقع پر بی آر ایس کے بعض اہم قائدین کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ جنوبی تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے رکن قانون ساز کونسل نے کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ کونسل کی مجالس مقامی زمرہ کی نشست پر کامیابی حاصل کرنے والے رکن نے پارٹی سے انحراف کے مسئلہ پر ریونت ریڈی اور دیگر قائدین سے مشاورت کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن کونسل نے کانگریس میں شمولیت سے متعلق کمیٹی کے صدرنشین کے جانا ریڈی سے گزشتہ دنوں ملاقات کی اور کانگریس میں شمولیت کا ارادہ ظاہر کیا۔ ذرائع کے مطابق رکن کونسل اپنے فرزند کو سیاسی جانشین کے طورپر اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ٹکٹ پر مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جس حلقہ سے وہ اپنے فرزند کے مقابلہ میں دلچسپی رکھتے ہیں، اسی حلقہ پر ایک سابق وزیر نے دعویداری پیش کی ہے۔ جانا ریڈی نے دونوں قائدین سے مشاورت کرتے ہوئے نشست کے مسئلہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ پارٹی برسر اقتدار آنے کی صورت میں کسی ایک کو راجیہ سبھا کی رکنیت کا پیشکش کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ریونت ریڈی نے سابق وزیر سے بات چیت کرتے ہوئے رکن کونسل اور ان کے فرزند کی کانگریس میں شمولیت کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی ہے۔ توقع کی جارہی ہے کہ پرینکا گاندھی کے دورہ حیدرآباد کے موقع پر بی آر ایس کے رکن کونسل کانگریس میں شمولیت اختیار کریں گے۔ کانگریس پارٹی نے بی آر ایس کے ناراض قائدین پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ر