بی آر ایس کے منحرف ارکان کے مسئلہ پر اسپیکر اسمبلی کو سپریم کورٹ کی نوٹس

   

وکلاء نے شخصی طور پر اسپیکر کے دفتر میں نوٹس حوالے کی، 25 مارچ کو جسٹس بی آر گوائی کی بنچ پر اہم سماعت
حیدرآباد 23 مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس کے 10 منحرف ارکان کے مسئلہ پر سپریم کورٹ نے اسمبلی اسپیکر جی پرساد کمار کو پھر ایک مرتبہ نوٹس جاری کی ہے جس میں اُن سے منحرف ارکان کے خلاف کارروائی کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی۔ بی آر ایس قائدین کے ٹی آر، کوشک ریڈی اور ویویکانند نے 10 منحرف ارکان کو اسمبلی کی رکنیت سے نااہل قرار دینے کے لئے سپریم کورٹ میں دو علیحدہ درخواستیں داخل کی ہیں۔ سپریم کورٹ کے جسٹس بی آر گوائی کی زیرقیادت بنچ نے سابق میں اسپیکر اور منحرف ارکان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جوابی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اسپیکر کے دفتر سے نوٹس کی عدم وصولی کی اطلاع پر سپریم کورٹ نے بی آر ایس کے وکلاء کے ذریعہ شخصی طور پر نوٹس اسپیکر کے دفتر کو روانہ کی ہے۔ کوشک ریڈی اور ویویکانند گوڑ کے وکلاء نے اسپیکر کے دفتر پہونچ کر سپریم کورٹ کی نوٹس حوالہ کی۔ سپریم کورٹ نے وکلاء کو نوٹس حوالہ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اِس معاملہ پر 25 مارچ کو سپریم کورٹ میں اہم سماعت مقرر ہے۔ سپریم کورٹ نے اسپیکر اور منحرف ارکان کو 25 مارچ سے قبل نوٹس کا جواب دینے کی ہدایت دی ہے۔ بی آر ایس کے وکلاء کلیان راؤ اور اے ہریش کی جانب سے اسپیکر کے دفتر کو نوٹس حوالہ کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ میں 25 مارچ کی سماعت انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی۔ بی آر ایس کے منحرف ارکان نے بھی اپنے جوابات سپریم کورٹ کو روانہ کردیئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ منحرف ارکان کا موقف ہے کہ اُنھوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار نہیں کی اور چیف منسٹر سے اُن کی ملاقات خیرسگالی تھی جسے میڈیا میں توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے اسمبلی کے سکریٹری کے علاوہ الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے 22 مارچ تک جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ مہلت ختم ہونے کے باوجود جواب داخل نہ کرنے پر اسپیکر کے دفتر کو وکلاء کے ذریعہ نوٹس روانہ کی گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپیکر کی جانب سے اسمبلی اجلاس کے اختتام پر ایوان میں پارٹیوں کی عددی طاقت کا جو اعلان کیا جاتا ہے اُس میں ہمیشہ بی آر ایس ارکان کی تعداد 38 بتائی جارہی ہے جو اِس بات کا ثبوت ہے کہ اسپیکر نے منحرف ارکان کو کانگریس ارکان کے طور پر قبول نہیں کیا ہے اور اُن کا شمار بی آر ایس ارکان کے طور پر اسمبلی کے ریکارڈ میں شامل ہے۔ 1