بی آر ایس کے وفد کی گورنر سے ملاقات ، عوامی دولت لوٹنے کا الزام

   

کے ٹی آر کا غیر قانونی کانکنی کی ہائی کورٹ کے جج سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 30 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کی قیادت میں بی آر ایس کے ارکان اسمبلی و قانون ساز کونسل نے لوک بھون پہونچکر گورنر سے ملاقات کی ۔ ریاست میں جاری مبینہ بدانتظامی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف شکایت درج کرائی ۔ بعد ازاں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ ریاست میں من مانی چلائی جارہی ہے ۔ اور عوامی وسائل کی بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی اور ریاستی وزیر مال پی سرینواس ریڈی قوانین کی خلاف ورزی کررہے ہیں اور غیر قانونی کانکنی میں ملوث ہیں اور بغیر کسی اجازت کے سینکڑوں کروڑ روپئے کی عوامی دولت کو نقصان پہونچا رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں تمام تفصیلات اور شواہد کے ساتھ گورنر کو باضابطہ شکایت پیش کی گئی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ پارٹی کے ڈپٹی فلور لیڈر ہریش راؤ نے بھی اسمبلی میں اس معاملے کو اٹھایا اور حکومت سے جواب طلب کیا ۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس مسئلہ پر واضح موقف سامنے نہیں آیا ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے غیر قانونی کانکنی معاملے کی سی بی سی آئی ڈی ( کرائم برانچ کریمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ ) سے تحقیقات کرانے کا اعلان کیا ہے ۔ لیکن یہ ادارہ ریاستی حکومت کے ماتحت ہے ۔ اس لیے اس سے غیر جانبدارانہ تحقیقات کی امید کم ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج سے کرائی جائے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جاسکے۔ انہوں نے وزیر پی سرینواس ریڈی کو فوری طور پر کابینہ سے ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ جب اس مسئلہ کو ان کے ایم ایل سی نے کونسل میں اٹھایا تو انہیں معطل کردیا گیا ۔ جو جمہوری اقدار کی خلاف ورزی ہے ۔ کے ٹی آر نے کہا کہ سرکاری عہدیدار خود ہی جانبدار ہوجائے اور محافظ ہی شکاری بن جائے تو عوام کا تحفظ کون کرے گا ۔۔ 2