پی راجیشور ریڈی جنگاؤں ‘سنیتا لکشما ریڈی نرساپور‘ ایم راج
شیکھر ریڈی ‘ ملکاجگری و نندکشور ویاس گوشہ محل تقریبا طئے
حیدرآباد /29 ستمبر ( سیاست نیوز ) بی آر ایس سربراہ کے سی آر نے زیر التوا اسمبلی حلقوں کے امیدواروں کو قطعیت دے دی ہے ۔ ناموں کا باضابطہ اعلان سے قبل ان کو عوام کے درمیان پہونچکر تیاریوں کی ہدایت دی ہے ۔ چیف منسٹر نے آئندہ انتخابات کیلئے مقابلہ کرنے والے 115 امیدواروں کا 21 اگست کو اعلان کیا تھا ۔ جس میں اسمبلی حلقہ ملکاجگری سے موجودہ رکن اسمبلی ایم ہنمنت راؤ شامل تھے ۔ تاہم انہوں نے ان کے فرزند کو اسمبلی ٹکٹ نہ دینے پر کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں جس کے بعد بی آر ایس نے وزیر لیبر ملاریڈی کے داماد ایم راج شیکھر ریڈی کو اسمبلی حلقہ ملکاجگری سے مقابلہ کی تیاری کی ہدایت دی ہے ۔انہوں نے دو دن قبل ایک ریالی منظم کی ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا کہ دیگر زیر التواء حلقوں جنگاؤں‘ سے ایم ایل سی پی راجیشور ریڈی کے اسمبلی حلقہ نرساپورسے مہیلا کمیشن کی صدرنشین سنیتا لکشما ریڈی اسمبلی حلقہ گوشہ محل سے نندکشور ویاس بلال کے ناموں کو تقریباً قطعیت دی گئی ہے ۔ اسمبلی نامپلی سے امیدوار پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے ۔ ایک دو دن میں امیدواروں کے نام کو قطعیت کی توقع کی جارہی ہے ۔ ان کو عوام کے درمیان پہونچنے اور پارٹی قائدین سے تال میل میں انتخابی مہم شروع کردینے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ بی آر ایس کے تقریباً 20 قائدین سابق وزراء سابق ارکان اسمبلی ، ارکان اسمبلی ارکان کونسل سابق ایم پی ‘ تین ضلع پرجا پریشد صدرنشین اور دیگر کانگریس میں شامل ہوگئے ہیں ۔ کے سی آر ‘کانگریس اور بی جے پی سے امیدواروں کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں ۔ جس کے بعد ان کے ناراض قائدین کو پارٹی میں شامل کرنے اور زیر التواء حلقوں کے ساتھ 115 امیدواروں کی فہرست میں معمولی تبدیلی و دیگر حلقوں کے امیدواروں کا باضابطہ اعلان کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں ۔ بی آر ایس میں ناراض قائدین کو سمجھاکر پارٹی میں روشن مستقبل کا تیقن دلایا جارہا ہے ۔ چند قائدین کو عہدے دئے گئے ہیں ۔ ساتھ ہی ٹکٹ سے محروم اے سکو آصف آباد‘ ایم یادگیری ریڈی جنگاؤں ‘ٹی راجیا اسٹیشن گھن پور کو کے سی آر نے اہم عہدے دینے کا وعدہ کیا ہے ۔ ن