اقتدار سے محرومی پر پس و پیش، کانگریس کو شامل کرنے کی جلدی نہیں
حیدرآباد۔/6 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں کانگریس کی پہلی حکومت کی تشکیل کے بعد بی آر ایس کے بعض ارکان اسمبلی کی کانگریس میں شمولیت کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ اسمبلی چناؤ میں بی آر ایس اقتدار سے محروم ہوگئی اور اسے 39 نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ 64 نشستوں کے ساتھ کانگریس نے اکثریت حاصل کرلی۔ سی پی آئی کے ایک رکن کی کانگریس کو تائید سے جملہ تعداد 65 ہوجاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نتائج کے اعلان کے بعد بعض بی آر ایس ارکان اسمبلی صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی سے ربط میں آچکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریونت ریڈی نے کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ عجلت میں نہ کرنے کا مشورہ دیا کیونکہ انحراف کی صورت میں عوام کے درمیان کانگریس کی امیج متاثر ہوسکتی ہے اور کے سی آر کو کانگریس پر تنقید کا موقع مل جائے گا۔ اگرچہ 2014 اور پھر 2018 اسمبلی چناؤ کے بعد کانگریس کے کئی ارکان نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی تھی لیکن کانگریس ہائی کمان فوری طور پر بی آر ایس ارکان کی شمولیت کے حق میں نہیں ہے اور ناراض ارکان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بی آر ایس میں برقرار رہیں مناسب وقت پر شمولیت کا فیصلہ کیا جائے گا۔ 2018 کے بعد کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی جبکہ 2014 میں 4 ارکان نے کانگریس سے انحراف کرتے ہوئے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی تھی۔ بی آر ایس کے قائدین کا ماننا ہے کہ حکومت کی تبدیلی کے نتیجہ میں اپوزیشن سے برسراقتدار پارٹی میں ارکان کی شمولیت ملک کی سیاست میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ بھدرا چلم سے بی آر ایس کے ٹکٹ پر منتخب رکن اسمبلی نے نتیجہ کے فوری بعد ریونت ریڈی سے ملاقات کی تھی لیکن دوسرے ہی دن وہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کے ساتھ دکھائی دیئے۔ اطلاعات کے مطابق بی آر ایس کے ایسے ارکان اسمبلی جو تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں ریونت ریڈی کی تائید اور مدد حاصل کرنے کیلئے کانگریس میں شمولیت اختیار کرسکتے ہیں۔ پارٹی سے امکانی انحراف کو روکنے کیلئے کے سی آر نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو ذمہ داری دی ہے۔ یہ دونوں قائدین نو منتخب ارکان اسمبلی سے مسلسل ربط میں ہیں اور ہر ہفتہ پارٹی سربراہ کے سی آر کے ساتھ اجلاس طلب کیا جائے گا۔