بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں خوشحالی اور بھائی چارہ کا ماحول: کے ٹی آر

   

کانگریس حکومت میں اقلیتیں نظر انداز، ایم ایس مقطعہ میں محمد سلیم کی جانب سے غریبوں میں رمضان تحفہ کی تقسیم
حیدرآباد ۔12 ۔ مارچ (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ کانگریس کے دو سالہ دور حکومت میں اقلیتوں سے کئے گئے وعدوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے۔ کے ٹی آر آج خیریت آباد اسمبلی حلقہ کے ایم ایس مقطعہ علاقہ میں سابق رکن قانون ساز کونسل الحاج محمد سلیم کی جانب سے غریب خاندانوں میں راشن کٹ پر مشتمل رمضان تحفہ کی تقسیم کے موقع پر خطاب کر رہے تھے۔ بی آر ایس کے سینئر لیڈر محمد سلیم کی جانب سے سینکڑوں غریب خاندانوں میں راشن کٹس کی تقسیم عمل میں آئی اور شہر کے کئی علاقوں میں تقسیم کا سلسلہ جاری ہے۔ اس موقع پر سابق وزیر سرینواس گوڑ ، رکن قانون ساز کونسل بی شراون ، سابق ارکان کونسل کے پربھاکر ، وینکٹیشورلو، سینئر قائد شیخ عبداللہ سہیل ، مینجنگ ڈائرکٹر انمول گروپ محمد سمیر کے علاوہ مقامی قائدین موجود تھے ۔ کے ٹی آر نے غریبوں میں راشن کی تقسیم پر محمد سلیم کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ تلنگانہ میں گزشتہ 10 برسوں میں خوشحالی اور بھائی چارہ کا ماحول تھا جو کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت میں غریب مسلمانوں کو رمضان کا تحفہ دیا جاتا رہا اور بتکماں کے موقع پر ساڑیاں اور کرسمس کے موقع پر گفٹ کی تقسیم عمل میں آئی ۔ غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے ایک لاکھ ایک ہزار 116 روپئے کی امداد کی گئی ۔ کانگریس برسر اقتدار آنے کے بعد رمضان کا تحفہ ختم ہوچکا ہے۔ کانگریس نے غریب لڑکیوں کو ایک تولہ سونا دینے کا وعدہ کیا تھا ۔ نہ ہی سونا ملا اور نہ ہی شادی مبارک کی امدادی رقم دی جارہی ہے ۔ کے ٹی آر نے ریمارک کیا کہ غریبوں کو سونا تو نہیں ملا اور ایم ایس مقطہ کے غریبوں کو سونے نہیں دیا جارہا ہے اور انہیں ہر لمحہ بلڈوزر کارروائی کا خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیریت آباد اسمبلی حلقہ میں بی آر ایس کے ٹکٹ پر کامیاب حاصل کرنے کے بعد ڈی ناگیندر نے کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ناگیندر انحراف سے انکار کرتے ہوئے بی آر ایس میں موجودگی کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس کے ٹکٹ پر ناگیندر نے لوک سبھا کے انتخابات میں حصہ لیا تھا ۔ انہوں نے ریمارک کیا کہ رمضان کے مقدس مہینہ میں جھوٹ کو اللہ تعالیٰ بھی نہیں کریں گے۔ کے ٹی آر نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ کے سی آر کی صحت اور ان کے دوبارہ چیف منسٹر بننے کے لئے خصوصی دعا کریں۔ سابق صدرنشین وقف بورڈ الحاج محمد سلیم نے کے ٹی آر کو حقیقی سیکولر قائد قرار دیا اور کہا کہ کے ٹی آر مستقبل کے چیف منسٹر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں کے ٹی آر نے حیدرآباد کی ترقی کو یقینی بنایا تھا۔ ریونت ریڈی اور کانگریس پارٹی مسلمانوں کو دھوکہ دے رہی ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ سال غریبوں میں راشن کے علاوہ ملبوسات تقسیم کئے جائیں گے۔1