کانگریس کے 10 ماہ کی حکومت میں کوئی اضافہ نہیں ، 50 لاکھ گھریلو صارفین کو 200 یونٹ تک مفت برقی سربراہی ، حکومت کی وضاحت
حیدرآباد ۔ 30 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : برقی شرحوں میں اضافہ نہ کرنے کے باوجود بی آر ایس کی جانب سے پہلے احتجاج کرنے اور اب پھر جشن منانے پر حکومت نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں برقی چارجس میں اضافہ کرتے ہوئے عوام پر 24,594 کروڑ روپئے کا اضافی بوجھ عائد کیا گیا ۔ سال 2015-16 میں تمام زمروں کے برقی صارفین پر ریاست کے دو ڈسکامس برقی شرحوں پر 18,845 کروڑ اور 2023-24 میں 43,439 کروڑ روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے عوام سے وصول کیا گیا ۔ برقی کے بڑھتے ہوئے کنکشنس اور کھپت سے زیادہ آمدنی وصول ہونے کے باوجود برقی چارجس میں اضافہ کرتے ہوئے تقریبا 20 ہزار کروڑ کا عوام پر زائد مالی بوجھ عائد کیا گیا ۔ بی آر ایس حکومت نے برقی شرحوں پر 2015-16 میں 5 فیصد اس طرح 2016-17 میں 8 فیصد اور دوبارہ 2022-23 میں 16 فیصد کا اضافہ کیا ہے ۔ سال 2020 سے قبل برقی کے بل میں ’ فکسڈ ‘ چارج کا کوئی ذکر نہیں تھا ۔ بی آر ایس حکومت نے گھریلو صارفین سے یہ وصول کرنا شروع کردیا تھا ۔ بی آر ایس حکومت نے عوام کو پانچ سال تک یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ برقی چارجس میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا گیا لیکن بالواسطہ طور پر کسی بھی برادری کو چھوڑے بغیر سابق حکومت ہر ایک یونٹ برقی پر 50 پیسے تا ایک روپیہ تک اضافہ کردیا ۔ اس کے علاوہ کسٹمر چارجس میں بھی اضافہ کردیا ۔ اس وقت برقی صارفین نے اس کی مخالفت کی مگر حکومت کی جانب سے ایک نہیں سنی گئی ۔ دوسری طرف برقی اداروں کے نفع نقصان کو ظاہر کئے بغیر برقی شعبہ کو تباہ کردیا گیا ۔ جس کی وجہ سے تلنگانہ میں ڈسکامس ہزاروں کروڑہا روپئے کے قرض میں مبتلا ہوگیا ۔ ہر سال ڈسکامس کی جانب سے ERC کو دئیے جانے والے سالانہ آمدنی اور ضروریات کی رپورٹ (ARR) کو بھی حکومت نے پیش کی ۔ 2021-22 ، 2020-21 ، 2019-20 ، 2014-15 برسوں کے دوران ڈسکامس نے اپنی (ARR) رپورٹس بھی وقت پر 30 نومبر تک داخل نہیں کی ۔ ان تمام تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا ۔ اس کے بعد بی آر ایس کے قائدین کانگریس حکومت پر 18 ہزار کروڑ روپئے کے برقی چارجس میں اضافہ کرنے کی سازش کرنے کے الزامات عائد کئے ۔ بالخصوص بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کی جانب سے جھوٹا اور گمراہ کن پروپگنڈہ پھیلایا گیا ۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ کانگریس حکومت نے برقی شرحوں میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا ڈسکامس کی جانب سے تجویز کردہ 1,200 کروڑ روپئے برقی چارجس میں اضافے کو بھی صارفین پر عائد ہونے نہیں دیا گیا ۔ اس کو بھی حکومت برداشت کرنے کے لیے تیار ہے ۔ ریاست میں کانگریس کی نئی حکومت تشکیل دینے کے بعد برقی شرحوں میں اضافہ کیے بغیر گروہا جیوتی اسکیم پر کامیابی کے ساتھ عمل کیا جارہا ہے ۔ اندرون 200 یونٹ برقی استعمال کرنے والے تقریبا 50 لاکھ گھریلو صارفین کو مفت برقی سربراہ کی جارہی ہے ۔۔ 2