بی آر ایس کے 30 امیدواروں کی تبدیلی کے اشارے ‘ کئی قائدین میں بے چینی

   

قطعی فیصلے کیلئے کانگریس و بی جے پی کی فہرستوں کا انتظار ۔ انتخابی مقابلہ کے خواہشمندوں کی تعداد میں اضافہ

حیدرآباد 10ستمبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ کی تمام سیاسی جماعتوں میں انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمندوں کی تعداد میں اضافہ اور برسراقتدار بھارت راشٹرسمیتی کی فہرست میں زائد از 30 امیدواروں کی تبدیلی کے اشاروں نے تمام سیاسی قائدین کی بے چینی میں اضافہ کردیا ہے ۔ بی جے پی میں ریاست کے 119 حلقہ جات اسمبلی سے مقابلہ کیلئے ملنیوالی زائد از 3 ہزار درخواستوں کے علاوہ کانگریس میں موصول 900 درخواستوں میں امیدواروں کا انتخاب جلد ہونے کا امکان ہے ۔ کہا جا رہاہے کہ دونوں جماعتوں سے امیدواروں کے اعلان کے بعد ہی بی آر ایس اپنے امیدواروں کی تبدیلی کا فیصلہ کرسکتی ہے تاکہ جن امیدواروں کو ٹکٹ نہیں مل پائے ہیں ان کو کسی دوسری جماعت میں شمولیت کا موقع باقی نہ رہے جبکہ بی آر ایس کے کئی سرکردہ قائدین جن کا اعلان ہوچکا ہے لیکن انہیں بی فارم جاری کئے جانے کے امکانات موہوم ہیں وہ کانگریس کے سینیئر قائدین سے رابطہ میں رہ کر اپنی شمولیت کی راہیں کھلی رکھے ہوئے ہیں اور ان کا کہناہے کہ اگر انہیں پارٹی ٹکٹ نہیں ملتا ہے تو وہ کانگریس میں شمولیت اختیار کرلیں گے اور انہیں کانگریس سے ٹکٹ کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان قائدین کا کہناہے کہ اگر کانگریس میں شمولیت اختیار کرلیتے ہیں تو تلنگانہ میں اگر کانگریس کو اقتدار حاصل ہوتا ہے تو وہ رکن کونسل بن کر دوبارہ ایوان میں پہنچ سکتے ہیں جبکہ بی آر ایس میں رہنے پر انہیں ایم ایل سی بنانے کے امکانات بھی نہیں ہیں کیونکہ ریاست میں جس تیزی سے عوامی رائے تبدیل ہورہی ہے وہ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کی غماز ثابت ہونے لگی ہے ۔بی آر ایس سے ناراض قائدین بی جے پی میں شمولیت اختیار کرنے کے حق میں نہیں ہیں بلکہ بی جے پی کے بعض سرکردہ قائدین جو محض بی آر ایس اور چیف منسٹر کے سی آر کی مخالفت کے سبب بی جے پی میں شمولیت اختیارکئے ہوئے تھے وہ بھی اب کانگریس سے رابطہ میں ہیں کیونکہ بی آر ایس کے ناراض قائدین اور بی جے پی قائدین کو بھی اب اس بات پر یقین ہونے لگا ہے کہ بی جے پی اور بی آر ایس میں خفیہ مفاہمت ہوچکی ہے اور اس مفاہمت سے دونوں جماعتوں نے متحدہ طور پر کانگریس کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔ تلنگانہ میں انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمندوں کی تعداد میں اضافہ پر ماہرین کا کہناہے کہ برسراقتدار جماعت نے اپنے بیشتر امیدواروں کو دوبارہ ٹکٹ دینے کا اعلان کرکے یہ صورتحال پید ا کی ہے کیونکہ موجودہ ارکان اسمبلی کے خلاف ناراضگی نے زمینی سطح پر سرگرم اپوزیشن قائدین و کارکنوں کے حوصلوں میں اضافہ کیا اور وہ چاہتے ہیں کہ ارکان اسمبلی اور حکومت کے خلاف ناراضگی کا بھر پور فائدہ اٹھاکر آئندہ اسمبلی انتخابات میں بی آر ایس کی شکست کو یقینی بنایا جائے ۔ تلنگانہ انتخابات پر ماہرین کا کہناہے ملک کی مختلف ریاستوں میں 7 حلقہ جات اسمبلی کے ضمنی انتخابات کے نتائج نے تلنگانہ کے انتخابات کو بھی دو رخی بنادیا ہے جبکہ حکومت سے آئندہ انتخابات کو سہ رخی بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے تاہم بی جے پی عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہے۔