بی جے پی۔ آر ایس ایس اشتراک ‘ ملک میں اقلیتوں کے خلاف متنازعہ قوانین

   

عالمی ادارہ USCIRF کی رپورٹ میں چونکا دینے والے انکشافات، اقلیتوں کی مذہبی آزادی خطرہ میں !
محمدنعیم وجاہت
حیدرآباد۔20۔نومبر۔ بین الاقوامی مذہبی آزادی پر امریکی کمیشن (USCIRF) نے ہندوستان میں مذہبی آزادی کی صورتحال پر سالانہ رپورٹ جاری کرکے مرکزی حکومت کو ساری دنیا کے سامنے سوالات کے کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے۔ ہندوستان میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے قوانین پر سخت اعتراض جتایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہیکہ بی جے پی اور آر ایس ایس مضبوط گٹھ جوڑ نے منظم سازش کے تحت ملک میں اقلیتوں کے خلاف امتیازی ماحول پیدا کردیا ہے۔ ہندوستانی سیاسی نظام ایسے فیصلے کررہا ہے جن کے ذریعے اقلیتوں کو سیاسی، سماجی اور قانونی طور پر کمزور کیا جاسکے۔ حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس اس میں پیش پیش ہیں۔ ان قوانین سے اقلیتوں کے خلاف امتیازی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور دعویٰ کیا ہیکہ آر ایس ایس ملک کو ’ہندوراشٹر‘ میں تبدیل کرنے کام کررہی ہے۔ قومی اور ریاستی سطح کے متعدد قوانین کی وجہ سے ملک بھر میں مذہبی آزادی پر کئی پابندیاں دیکھنے کو مل رہی ہے۔ اس تازہ رپورٹ پر مرکزی حکومت کی جانب سے فی الحال کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا گیا البتہ وزارت خارجہ نے USCIRF کی سالانہ رپورٹ کو متعصبانہ، غلط اور سیاسی قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ رپورٹ نے پھر ایک بار بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی مذہبی آزادی سے متعلق مباحث کو تیز کردیا ہے۔ دوسری جانب ملک کی سیاست میں ایک نیا طوفان کھڑا کردیا ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کا گٹھ جوڑ شہریت، تبدیلی مذہب ، گائے کے ذبیجہ اور دیگر حساس موضوعات پر امتیازی قوانین کی تشکیل اور اس پر سختی سے نفاذ کا سبب بنا ہے۔ USCIRF نے کہا کہ 2014ء میں بی جے پی برسراقتدار آنے کے بعد سے ایسی پالیسیاں متعارف ہوئیں جنہوں نے مختلف مذہبی برداریوں میں تقسیم کی حوصلہ افزائی کی ۔ یہ پالیسیاں دستور اور سیکولر اصولوں کے مغائر ہیں۔ ان قوانین کا مقصد مذہبی اقلیتوں کیلئے عقائد پر آزادانہ عمل کو مشکل بنانا ہے۔ کمیشن کا دعویٰ ہیکہ آر ایس ایس کا بنیادی مقصد ’ہندوراشٹر‘ کی تعمیر ہے۔ آر ایس ایس اس تصور کو فروغ دیتا ہے کہ ہندوستان بنیادی طور پر ہندو قوم ہے اور دوسرے مذہبی گروپ اس تشخص کا حصہ نہیں ہے۔ آر ایس ایس براہ راست انتخابات میں حصہ نہیں لیتی لیکن بی جے پی اور وزیراعظم مودی کیلئے کیڈر کو منظم کرتی ہے۔ نریندر مودی آر ایس ایس رکن ہیں ان کے خلاف 2002 کے مسلم کش فسادات میں مبینہ بے عملی کے الزامات بھی رپورٹ میں درج کئے گئے ہیں۔ شہریت قانون کے خلاف آواز اٹھانے پر عمر خالد کے خلاف کارروائی اور حراست کا رپورٹ میں حوالہ دیا گیا جس کو حکومت کی مذہبی اقلیت مخالف کارروائیوں کی مثال قرار دیا گیا جو 2020ء سے شہریت ترمیمی کے خلاف پرامن مظاہروں میں (CAA) ایکٹ میں پیش پیش تھے۔2