مذہبی سیاست تلنگانہ میں نہیں چلے گی: بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر
حیدرآباد۔/10 اکٹوبر، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں 110 اسمبلی حلقوں پر بی جے پی امیدواروں کی ضمانت ضبط ہوجائے گی، مودی اور امیت شاہ بھی تلنگانہ میں بی جے پی کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو نہیں بچاسکتے، بی آر ایس کی اسٹیرنگ چیف منسٹر کے سی آر کے ہاتھوں میں محفوظ ہے جبکہ بی جے پی کی اسٹیرنگ اڈانی کے ہاتھ میں ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے عادل آباد کے بی جے پی جلسہ عام سے جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام بی جے پی کو مسترد کرچکے ہیں، وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ بھی بی جے پی کو بچا نہیں سکتے۔ خاندانی پارٹی اور حکومت کا طنز کرنے والے امیت شاہ پہلے اپنے گریباں میں جھانک کر دیکھ لیں، کونسا کرکٹ کپ جیتنے پر جئے شاہ کو بی سی سی آئی کا سکریٹری بنایا گیا، جئے شاہ نے کب کرکٹ کھیلا ہے امیت شاہ اس کی وضاحت کریں۔ گذشتہ 10 سال سے مرکز کی بی جے پی حکومت نے تلنگانہ کو ایک بھی تعلیمی ادارہ منظور نہیں کیا ہے۔کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ میں مذہبی سیاست کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ زرعی شعبہ کی ترقی اور کسانوں کی فلاح و بہبود کے معاملے میں تلنگانہ سارے ملک میں سرفہرست ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ امیت شاہ نے 5 سال قبل عادل آباد میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سمنٹ کارپوریشن آف انڈیا کا احیاء کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کو آج تک پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ سے جو بھی وعدے کئے گئے انہیں پورا کرنے میں مرکز کی بی جے پی حکومت پوری طرح ناکام ہوگئی ہے۔ امیت شاہ نے قبائیلی یونیورسٹی کیلئے اراضی نہ دینے کا تلنگانہ حکومت پر جھوٹا الزام عائد کیا۔ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کو ایک بھی میڈیکل کالج نہیں دیا، نوودیا تعلیمی ادارے اور جی بی وی بھی نہ دینے کا الزام عائد کیا۔کے ٹی آر نے کہا کہ تلنگانہ کے عوام بی جے پی پر بھروسہ نہیں کریں گے بلکہ بی جے پی کو سبق سکھائیں گے۔ن