بی جے پی اورمجلس یکساں طورپرفرقہ وارانہ سیاست کی علمبردار

   

کانگریس مستحکم اور عوامی جماعت ۔ کانگریس بھون میں مہیش کمارکاخطاب

نظام آباد: 21 ؍جنوری (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) صدر پردیش کانگریس کمیٹی مہیش کمار گوڑ نے بی جے پی اور مجلس کو یکساں طور پر فرقہ وارانہ سیاست کی علمبردار جماعتیں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں پارٹیاں مذہب اور ناموں کے سہارے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ کانگریس ایک مستحکم اور عوامی جماعت کی حیثیت سے اپنے بل بوتے پر مقابلہ کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی کرے گی۔ کانگریس بھون میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر مہیش کمار گوڈ نے واضح کیا کہ بی جے پی ہو یا مجلس، کانگریس کی نظر میں دونوں کا کردار یکساں ہے اور اویسی کا نام لینے یا بھگوان کے نام پر سیاست کرنے سے ووٹ حاصل نہیں ہوں گے۔مہیش کمار گوڑ نے رکن اسمبلی بی آر ایس ہریش راؤ کی جانب سے سیٹ پوچھ تاچھ کے معاملہ پر کانگریس حکومت پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ دس سالہ بی آر ایس دورِ حکومت میں کئے گئے ٹینڈرز اور دو سالہ کانگریس حکومت کے ٹینڈرز پر کھلے عام بحث کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کے ٹی آر اور ہریش راؤ میں ہمت ہے تو عوام کے سامنے حقائق رکھیں، ورنہ الزامات کا سلسلہ بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد 600 کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے سڑکوں کی تعمیر، انٹیگریٹڈ اسکول کی منظوری، ماضی میں میڈیکل کالج، یونیورسٹی اور دیگر ترقیاتی کام انجام دیے گئے، جبکہ بی آر ایس کے دس سالہ دور میں کوئی نمایاں کام نظر نہیں آتا۔ بی جے پی پر الزام عائد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں بھینسہ کے فرقہ وارانہ فساد کے سہارے کامیابی حاصل کی گئی اور اب پھر مذہب کے نام پر ووٹ مانگنے کی کوشش ہو رہی ہے، جس سے ترقیاتی کام متاثر ہوں گے۔ اس موقع پر صدر نشین اردو اکیڈمی طاہر بن حمدان، ضلع کانگریس صدر ناگیش ریڈی ،ٹاؤن کانگریس بوبلی راما کرشنا ،پر چار کمیٹی چیئرمین محمد جاوید اکرم کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔