بی جے پی ایودھیا سیٹ گنواتے ہی جے شری رام کا نعرہ بھول گئی : سنجے سنگھ

   

نئی دہلی: عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے وزیر اعظم مودی اور بی جے پی پر شدید حملہ کیاہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی پرتشدد نظریہ رکھنے والی پارٹی ہے۔ جہاں ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی پرتشدد نظریہ کو فروغ دینے کا کام کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ نے وزیر اعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ اگر بی جے پی ایودھیا ہار گئی تو اب اس نے جئے بھگوان شری رام کا نعرہ لگانا چھوڑ دیا ہے۔عام آدمی پارٹیکے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ نریندر مودی اور بی جے پی ہندو مذہب اور ہندو سماج کو بدنام کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ جس ملک کا وزیراعظم مجرا جیسا لفظ استعمال کرے اور اس کے علاوہ مغل، مدرسہ، مسلم اور درانداز جیسے الفاظ استعمال کر کے ملک کے اندر کھلے عام نفرت پھیلاتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہندو مذہب میں تشدد کی آزادی کہاں ہے؟ ہندو مذہب کہتا ہے کہ آپس میں محبت،بھائی چارہ ہو ، جانداروں میں خیرخواہی اور دنیا کی بھلائی ہونی چاہیے۔ لیکن ہندوستان کے وزیر اعظم جانداروں میں نفرت پیدا کر رہے ہیں۔عام آدمی پارٹی کے رہنما سنجے سنگھ نے کہا کہ بی جے پی اور وزیر اعظم مودی نے ابھی تک نہیں سیکھا ہے۔ اس لیے ایودھیا، سلطان پور، پرتاپ گڑھ، پریاگ راج، شراوستی، کوشامبی، چترکوٹ، رام پور، سیتا پور اور ناسک لوک سبھا سیٹیں ہار گئیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں ہر جگہ کا تعلق مذہب سے ہے۔راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ نے وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی مسلمان، سکھ، عیسائی، دلت، پسماندہ طبقات، کسان پھر پہلوانوں کو گالی دیتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ قبائلیوں کے سروں پر پیشاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب بی جے پی لیڈر ایودھیا کے لوگوں کو گالی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب وزیر اعظم مودی جے بھگوان شری رام نہیں کہہ رہے ہیں۔ اب وہ جئے جگناتھ کہہ رہے ہیں۔ اب تو ان لوگوں نے بھگوان شری رام کی جئے کہنا بھی چھوڑ دیا ہے، یہ ایسے خود غرض لوگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہتر ہو گا کہ وزیر اعظم مودی اب بھی بھگوان شری رام کے پیغام کو سمجھیں۔ اب بھی نہ سمجھے تو آج عوام نے اسے 240 پر پہنچا دیا ہیاور ہو سکتا ہے کل اسے24 پر ہی پہنچا دے۔