تمام سرکاری اداروں کو بیچا جا رہا ہے ۔ بیروزگاری ختم کرنے میں نریندر مودی اور اروند کجریوال پر ناکامی کا الزام
نئی دہلی 4 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) کانگریس لیڈر راہول گاندھی نے ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے مسئلہ پر بی جے پی اور عام آدمی پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انہوں نے اس مسئلہ پر لب کشائی نہ کرنے پر وزیر اعظم نریندر مودی پر تنقید کی ۔ جنوبی دہلی کے جنگ پورہ میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اور دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال ملک میں فی الحال درپیش سب سے بڑے مسئلہ بیروزگاری کا کوئی حل دریافت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی ممالک ہیں جو ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں لیکن یہاں پالیسیاں ٹھیک نہیں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ آیا وزیر اعظم نے ملک کے نوجوانوں کو سالانہ دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ پورا کیا ہے ۔ انہوں نے عوام سے سوال کیا کہ کیا انہیں مودی کا وعدہ یاد ہے ؟ ۔ کیا عوام کو روزگار ملا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں عام آدمی پارٹی اور اروند کجریوال نے غربت کا خاتمہ کرنے کیلئے کیا کچھ کیا ہے ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جی ایس ٹی اور نوٹ بندی بی جے پی نے نافذ کی ہے اور اس سے عوام کو مشکلات پیش آئیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ راہول گاندھی دہلی اسمبلی انتخابات کیلئے مہم چلانے پہونچے جہاں 8 فبروری کو رائے دہی ہونے والی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی نے میڈ ان انڈیا کا نعرہ دیا تھا لیکن انہوں نے ملک میں ایک بھی فیکٹری نہیں لگائی ۔ وہ لوگ ہر چیز فروخت کر رہے ہیں۔ انڈین آئیل بیجا جارہا ہے ‘ ائر انڈیا بیجا جارہا ہے ‘ ہندوستان پٹرولیم ‘ ریلویز اور لال قلعہ تک بیچا جا رہا ہے ۔ راہول نے ریمارک کیا کہ یہ لوگ اب تاج محل بھی بیچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر میڈ ان انڈیا پر عمل کیا جائے تو ہندوستان میں ہر سال دو کروڑ نوجوانوں کو روزگار مل سکتا ہے لیکن نریندر مودی اور اروند کجریوال اس میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ یہ لوگ صرف عوام کو ایک دوسرے کے خلاف لڑانا جانتے ہیں تاکہ انہیں اقتدار حاصل ہوجائے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ بیشتر ممالک جیسے امریکہ ‘ جاپان ‘ آسٹریلیا ‘ انگلینڈ اور اٹلی نے اپنی کمپنیوں کو چین بھیجا ہے لیکن وہ پریشان ہیں اور وہ زیادہ کام نہیں کر رہے ہیں۔ وہ ہندوستان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ وہ ہمارے نوجوانوں کی جانب دیکھ رہے ہیں ۔ ساری دنیا یہ سوال کر رہی ہے کہ کیا ہم میڈ ان انڈیا کو آگے بڑھا سکتے ہیں ؟ ۔ انہوں نے کہا کہ چین کے سواء ہر ملک ہندوستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے لیکن انہیں گذشتہ پانچ سال کے دوران ملک میں صرف نفرت دکھائی دی ‘ تشدد دکھائی دیا اور عصمت ریزی دکھائی دی ۔ نریندر مودی کس طرح کا ہندو مذہب اختیار کرتے ہیں ؟۔ راہول گاندھی نے مرکزی بجٹ پر وزیر فینانس نرملا سیتارامن پر تنقیدوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا اور کہا کہ یہ محض کھوکھلا بجٹ ہے اور یہ صرف مٹھی بھر سرمایہ داروں اور کارپوریٹس کو فائدہ پہونچانے تیار کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نرملا سیتارامن ملازمتوں اور روزگار پر بات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔
