لکھنؤ۔ 8 مارچ (یواین آئی) سماجوادی پارٹی(ایس پی) کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت کے دور میں ملک کی خارجہ پالیسی پر بھی بیرونی اثر بڑھ گیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے ہندوستان کی روایتی غیر جانبدارانہ خارجہ پالیسی کی جگہ گروہی پالیسی اپنا لی ہے جس سے ملک کی خودمختاری اور خود انحصاری کمزور ہوئی ہے ۔ اتوار کو لکھنؤ کے جانکی پورم میں ایک پروگرام میں شرکت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حکومت کوئی “گروی گارنٹی یوجنا” چلا رہی ہو اور اسی کے تحت فیصلے کیے جا رہے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت ہر معاملے میں دوسروں کی طرف دیکھ رہی ہے اور انہیں کے اشاروں کے مطابق کام کر رہی ہے جس سے ملک کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے ۔ اکھلیش یادو نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سچے لوگوں اور سچائی سے گھبراتی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو حکومت خود کو سناتن دھرم کی حمایتی بتاتی ہے وہی آج سناتن دھرم کے قابل احترام شنکرآچاریہ کا احترام نہیں کر رہی اور ان کی توہین کر رہی ہے ۔ مہنگائی اور بدعنوانی کے مسئلے پر بھی انہوں نے حکومت کو گھیرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے پورے نظام کو خراب کر دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ آج مہنگائی اور بدعنوانی اپنے عروج پر ہیں اور ہر طبقہ اس سے پریشان ہے ۔ ان کے مطابق جب تک بی جے پی حکومت ختم نہیں ہوگی تب تک مہنگائی سے راحت ملنا مشکل ہے ۔ بین الاقوامی یومِ خواتین کے موقع پر اکھلیش یادو نے خواتین کو مبارکباد دی اور کہا کہ خواتین کے بارے میں سماج کی سوچ میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خواتین جتنا ترقی کریں گی سماج بھی اتنا ہی ترقی کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ یوپی کی بی جے پی حکومت میں خواتین سب سے زیادہ غیرمحفوظ ہیں۔