بی جے پی حکومت میں معاشی عدم مساوات برطانوی دور سے بھی زیادہ : پرینکا گاندھی

   

نئی دہلی :وائناڈ سے رکن پارلیمنٹ اور کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے ایک بار پھر وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کمزور ہوا ہے۔ ہندوستانی عوام کی آمدنی کم ہو رہی ہے اور لوگ قرض لے رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے قول کو یاد کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک تھوڑے آدمیوں کے اونچی کرسی پر بیٹھنے سے نہیں اٹھتے، ملک اٹھتے ہیں تب جب کروڑوں لوگ خوشحال ہوتے ہیں اور ترقی کرتے ہیں۔پرینکا گاندھی نے لکھا کہ آر بی آئی کے مطابق ہندوستانی کنبوں کی آمدنی لگاتار گھٹ رہی ہے اور قرض لینے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ نوٹ بندی کے بعد سے لگاتار نوکریاں گھٹی ہیں اور یہ رجحان اب تک جاری ہے۔ آمدنی میں کمی کی وجہ سے قرض کی ادائیگی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ نتیجتاً رواں مالی سال کے ابتدائی 7 ماہ میں گولڈ لون میں 56 فیصد کا اضافہ ہوا لیکن ساتھ ہی گولڈ لون ڈیفالٹ میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ساتھ ہی پرینکا گاندھی نے لکھا کہ وزیر اعظم نے سالانہ 2 کروڑ نوکریاں، 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت، وِشوگرو اور نئے سال کی قراردادیں جیسے جملے تو خوب دیے لیکن اصل میں ان کی معاشی حکمت عملیوں نے کروڑوں لوگوں کو کمزور کر دیا ہے۔پرینکا گاندھی نے معاشی عدم مساوات کے بارے میں لکھا کہ ’’عالمی عدم مساوات کے ڈیٹا بیس کے مطابق بی جے پی کے دور حکومت میں معاشی عدم مساوات برطانوی حکومت سے بھی زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ملک کی نصف سے زیادہ دولت پر ایک فیصد امیروں کا قبضہ ہے۔ متوسط اور کم آمدنی والے طبقوں پر بالواسطہ ٹیکسوں کے بوجھ نے مہنگائی میں خاصہ اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے عام لوگ اپنی فیملی بہتر طریقے سے نہیں چلا پا رہے ہیں۔