لکھنؤ 9 جنوری (یواین آئی) سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں امن و امان کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے ۔ ریاست میں جرم اور بدعنوانی عروج پر ہے ، جبکہ خواتین اور بیٹیاں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ اور کرپشن کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کے تمام دعوے سراسر جھوٹے ثابت ہوئے ہیں۔ جمعہ کو پارٹی کی جانب سے جاری بیان میں اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت کا ‘زیرو ٹالرنس’ کا وعدہ اب صفر میں بدل گیا ہے ۔ میرٹھ میں ماں پر قاتلانہ حملہ اور بیٹی کو اٹھا لے جانے کا واقعہ انتہائی سنگین ہے ، جو ریاست کے بگڑتے ہوئے حالات کو بے نقاب کرتا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت مجرموں کی سرپرستی کر رہی ہے اور اب حالات ایسے ہو گئے ہیں کہ حکومت ان سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی، کیونکہ مجرم ان کے راز فاش کر دیں گے ۔ ایسی حکومت سے عوام کو کوئی امید نہیں بچی ہے اور یہ حکومت پوری طرح ناکام ہو چکی ہے ۔ سابق وزیراعلی نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم اور سائبر کرائم کے معاملات میں اتر پردیش ملک میںسرفہرست پہنچ گیا ہے ، جس کی پوری ذمہ داری بی جے پی حکومت پر عائد ہوتی ہے ۔ وزیراعظم کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں روزانہ خواتین تشدد کا شکار ہو رہی ہیں اور ہر پندرہ دن میں عصمت دری کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ پوری ریاست میں قتل، لوٹ مار اور زیادتی کے واقعات عام ہو گئے ہیں۔ حکومت جھوٹے اشتہارات اور پروپیگنڈے سے سچائی کو چھپا نہیں سکتی۔ اکھلیش یادو نے مزید کہا کہ بی جے پی حکومت کی بدعنوانی اور لوٹ مار کی وجہ سے جرائم کا دائرہ مسلسل بڑھتا گیا ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اتر پردیش میں مافیا راج ختم نہیں ہوا، بلکہ اسے تحفظ اور ترقی ملی ہے ۔ اربوں روپے کی کالی کمائی میں حکمران جماعت کی حصے داری ہے ، اسی وجہ سے عوام پریشان ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی اپنی آخری اننگز کھیل رہی ہے اور 2027 میں ریاست کے عوام اسے اقتدار سے باہر کر دیں گے ۔
