اپوزیشن کی جانب سے بہار میں نتیش کمار حکومت کو مختلف مسائل پر گھیرنے کی کوشش کی گئی۔ریاستی اسمبلی کی کارروائی پیر کو ملتوی کردی گئی اور بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ فوری طور پر بلائی گئی۔پیر کی صبح 11 بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن جماعتوں بالخصوص راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی)کے ارکان آسن کے سامنے آگئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایم ایل اے ہری بھوشن ٹھاکر بچول کی معطلی کا مطالبہ کیا۔ بچول گزشتہ ہفتے اپنے میڈیا بیان پر اپوزیشن کی طرف سے تنقید کی زد میں آئے ہیں جس میں انہوں نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں کو ان کا حق رائے دہی چھین لینا چاہیے اور ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہری جیسا سلوک کیا جانا چاہیے۔اسمبلی کے اسپیکر وجے کمار سنہاکی بار بار کی درخواست پر اپوزیشن ایم ایل اے اپنی جگہوں پر گئے اور پوڈیم کے سامنے اپنے مسائل اٹھانے لگے۔ان کے بیان کے علاوہ، اپوزیشن کے ارکان نے دو اور مسائل اٹھائے جن میں سمستی پور میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی پارٹی کے جے ڈی (یو) کارکن کا مبینہ طور پر گئو رکشکوں کے ذریعہ ہجومی تشدد اورشراب بندی کو نافذ کرنے میں پولیس کی مبینہ ناکامی شامل ہے۔
