متحدہ ضلع میناریٹی چیرمین ساجد خان کی ایڈیشنل ایس پی سے نمائندگی
عادل آباد ۔ 23؍ جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عادل آباد حلقہ لوک سبھا کے نو منتخب بی جے پی رکن مسٹر سویم بابو راؤ کی جانب سے دو دن قبل گاوی گوڑہ منڈل مستقرپر ایک جلسہ کے دوران اپنے خطاب میں ’’ آدی واسی لڑکیوں کے پیچھے گرنے والے مسلم لڑکوں کے سرکانٹ کر پھینک دینا ‘‘ کے اس بیان پر متحدہ ضلع عادل آباد میں پائی جانے والی گنگاجمنی تہذیب اور ہندو مسلم بھائی چارگی کو خطرہ محسوس کرتے ہوئے کانگریس پارٹی متحدہ ضلع عادل آباد میناریٹی چیرمین مسٹر ساجدخان نے آج پارٹی اراکین کے ہمراہ ایڈیشنل ایس پی سے ملاقات کرتے ہوئے ایک یادداشت پیش کی اور بی جے پی رکن لوک سبھا کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ۔ بعدازاں میڈیا سے مخاطب ہو کر مسٹر خان نے مسٹر سویم بابوراؤ کے اس بیان کی سخت مذمت کی اور کہاکہ رکن لوک سبھا اپنے آپ کو صرف ’’آر یو سی‘‘ طبقہ تک کیوں مختص کرچکے ہیں جبکہ وہ ہر قوم طبقہ کے قائد تصور کئے جاتے ہیں ۔ کانگریس پارٹی مینارٹیز چیرمین نے کہا کہ کسی بھی لڑکی کے پیچھے گرنے والے نوجوان چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہے اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے پولیس سے خواہش کی ۔ مسٹر ساجد خان نے عاد ل آباد رکن اسمبلی سے کہا کہ وہ سرے عام مسلمانوں سے معافی کے طلبگار ہوں ۔ موصوف کو ضلع عادل آباد کی ترقی کی طرف توجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے مسٹر خان نے مسلمانوں کو صبر و تحمل سے کام لینے کا مشورہ دیا ۔ مسٹر سویم بابوراؤ کو ایک سیکولر قائد تصور کرتے ہوئے حالیہ لوک سبھا انتخابات میں مسلمانوں نے بھی اپنے مکمل تعاون کا اظہارکیا ۔ مسلمانوں کے ووٹوں کی بدولت کامیابی حاصل کرنے والے عادل آباد رکن لوک سبھا قبل ازیں اسمبلی انتخابات میں حلقہ بوتھ سے دو مرتبہ کے لئے منتخب ہوچکے ہیں۔ اس موقع پر مسرس فیاض احمد ‘ ‘ یم اے کلیم ‘ ایم اے شکیل ‘ محمد صادق سابق بلدیہ کونسلر دیگر افراد بھی موجود تھے ۔
