بی جے پی رکن پارلیمنٹ پر حملہ، قومی انسانی حقوق کمیشن میں مقدمہ درج

   

اسپیکر اوم برلا سے نمائندگی، معاملہ لوک سبھا کی مراعات کمیٹی سے رجوع، پولیس کو نوٹس کی اجرائی
حیدرآباد۔ 7 نومبر (سیاست نیوز) قومی انسانی حقوق کمیشن نے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ بی سنجے پر پولیس حملے کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ بی سنجے نے نئی دہلی میں قومی انسانی حقوق کمیشن سے نمائندگی کرتے ہوئے پولیس حملے کی شکایت کی۔ کمیشن نے پولیس کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے نوٹس جاری کی ہے۔ اس مقدمہ میں تلنگانہ کے چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری، ڈائرکٹر جنرل پولیس، ایس پی کریم نگر اور حملے کے مقام پر موجود پولیس عہدیداروں کو بطور فریق شامل کرتے ہوئے نوٹس جاری کی گئی۔ اسی دوران بی سنجے نے اسپیکر لوک سبھا اوم برلا سے ملاقات کرتے ہوئے پولیس کی جانب سے حملے کی شکایت کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ان کے حقوق پر حملہ کیا ہے۔ لہٰذا مراعات شکنی کے تحت پولیس کے خلاف کاروائی کی جائے۔ آر ٹی سی ڈرائیور بابو کی آخری رسومات کے موقع پر پولیس نے ان پر حملہ کیا۔ بی سنجے نے اسپیکر کو اخبارات کے تارشے اور حملے میں ملوث پولیس عہدیداروں کے ناموں کی تفصیل پیش کی۔ انچارج کمشنر پولیس ستیہ نارائنا، ایڈیشنل ڈی سی پی سنجیو، اے سی پی ناگیا اور انسپکٹر انجیا کے خلاف کارروائی کی اپیل کی گئی۔ بی جے پی رکن نے تلنگانہ پولیس اور کریم نگر ضلع کلکٹر کے خلاف تحریک مراعات پیش کی۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے پارلیمنٹ کی مراعات کمیٹی کے صدرنشین سشیل کمار سنگھ کو اس معالہ کی جانچ کی ہدایت دی۔ انہوں نے تحقیقاتی رپورٹ جلد پیش کرنے کا مشورہ دیا۔ اسپیکر نے بی جے پی رکن کو تیقن دیا کہ ان پر حملے کے ذمہ دار پاولیس عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ حالیہ دنوں کریم نگر میں آر ٹی سی کے کنڈاکٹر این بابو کی آخری رسومات کے موقع پر صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔ باباو کی ارتھی، آر ٹی سی ڈپو لیجانے کی کوشش کرنے پر پولیس نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کی راہ میں رکاوٹ پیدا کی۔ پولیس کی اجازت نہ ملنے کے باوجود سنجئے نے ارتھی کے جلوس کی قیادت کی جس پر پولیس اور ان کے درمیان بحث تکرار ہوگئی۔ اس موقع پر پولیس نے سنجئے کے ساتھ نازیبا سلوک کیا۔ اس واقعہ کے سلسلہ میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ پولیس سے پہلے ہی رپورٹ طلب کرچکے ہیں۔