بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کی کار پر ٹی آر ایس کارکنوں کا حملہ

   

آرمور کے دورہ کے موقع پر کشیدگی، حملہ سے ٹی آر ایس لا تعلق، کسانوں کے احتجاج کا دعویٰ

حیدرآباد۔ 25 جنوری (سیاست نیوز) بی جے پی رکن پارلیمنٹ ڈی اروند کو آرمور کے دورہ کے موقع پر عوامی ناراضگی کا سامنا کرنا پڑا۔ احتجاجیوں نے رکن پارلیمنٹ کی کار پر حملہ کردیا اور سنگباری کے نتیجہ میں کار کو نقصان پہنچا۔ ڈی اروند جو لوک سبھا حلقہ نظام آباد کی نمائندگی کرتے ہیں اپنے حلقہ انتخاب کے آرمور علاقہ کے دورہ پر تھے۔ ڈی اروند نے ٹی آر ایس کارکنوں پر حملہ کا الزام عائد کیا جبکہ ٹی آر ایس پارٹی نے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ ہلدی کے کسانوں نے اپنا احتجاج درج کرایا ہے۔ الیکشن کے وقت ڈی اروند نے ہلدی کی اقل ترین امدادی قیمت کو یقینی بنانے کے لئے ہلدی بورڈ کے قیام کا وعدہ کیا تھا اور کسانوں کو تحریری طور پر تیقن دیا تھا۔ ڈی اروند آج آرمور کے نندی پیٹ منڈل کے نوتے پلی گاؤں کے دورہ پر تھے، وہ جیسے ہی ترقیاتی پروگراموں میں شرکت کے لئے وہاں پہنچے اسنا پلی کے قریب مقامی افراد نے گاڑیوں کو روک دیا اور کاروں پر پتھروں سے حملہ کیا۔ ڈی اروند کی کار کے آئینے تباہ ہوگئے۔ اس واقعہ کے ساتھ ہی بی جے پی اور ٹی آر ایس کارکنوں میں جھڑپ ہوگئی اور ماحول کشیدہ ہوگیا۔ پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے متصادم گروپوں کو منتشر کردیا۔ پولیس کے رویہ کے خلاف بی جے پی قائدین اور کارکنوں نے راستہ روکو احتجاج منظم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں کمشنر پولیس اور دیگر عہدیداروں سے شکایت کی گئی لیکن پولیس کا رویہ تماش بین کا رہا۔ ٹی آر ایس کارکنوں نے پولیس کی نگرانی میں حملہ کیا۔ پولیس نے ٹی آر ایس کارکنوں کی تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کے خلاف لوک سبھا کی مراعت کمیٹی میں شکایت درج کرائیں گے۔ اروند نے بتایا کہ وہ اس واقعہ کی اطلاع بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو دیں گے۔ ٹی آر ایس کارکنوں کے خلاف پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی۔ اسی دوران ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی جیون ریڈی نے کہا کہ آرمور کے ہلدی کسانوں کے احتجاج کے نتیجہ میں رکن پارلیمنٹ کی کار کو نقصان پہنچا۔ ر