بی جے پی ریاستوں میں کھلے عام قتل و غارت گری کے رجحان میں تیزی

,

   

ہریانہ میں اشرار نے امام کو گولی ماردی، مسجد نذر آتش، ضلع نوح سے گروگرام تک تشدد۔ اترپردیش ، مدھیہ پردیش ، گجرات میں سرکاری ظلم
منی پور میں اقلیتوں کیخلاف گھناؤنے جرائم، جئے پور ۔ممبئی ٹرین میں نفرت کے پجاری کی بربریت کے یکے بعد دیگر واقعات

نئی دہلی: ہریانہ کے نوح ضلع میں پیر کے روز برپا کیا گیا فرقہ وارانہ تشدد پڑوسی علاقے گروگرام تک پہنچ گیا جہاں گڑگاؤں کے سیکٹر 57 میں ایک مسجد پر منگل کی اولین ساعتوں میں اشرار نے حملہ کرتے ہوئے مسجد میں موجود دو افراد پر فائرنگ کردی،جس میں مسجد کے نوجوان امام مولانا سعد جاں بحق ہوگئے۔مزید دو مصلی کو بھی زخمی کردیا گیا۔اشرار نے گولیاں چلانے کے بعد مسجد کو آگ لگا دی۔ ملک کی کئی ریاستوں میں چند ماہ بعد اسمبلی الیکشن مقرر ہے اور پھر اندرون پانچ ماہ لوک سبھا انتخابات ہونے والے ہیں۔ حالیہ برسوں میں دیکھا گیا کہ جب بھی الیکشن قریب ہوتا ہے ، بی جے پی حکمرانی والی ریاستوں میں فرقہ پرستی پر مبنی ایجنڈہ نمایاں ہوجاتا ہے۔کم از کم دو سال سے اترپردیش ، مدھیہ پردیش اور گجرات میں بی جے پی حکومتوں نے عام ملزمین اور مجرمین کیخلاف بلڈوزر پالیسی اختیار کی ہوئی ہے۔اب چند ہفتوں سے منی پور میں اقلیتی عیسائی برادری کے خلاف گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کیا گیا اور بی جے پی حکومت خاموش تماشائی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہریانہ اور دیگر ریاستوں میں نفرت کے پجاریوں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیخلاف تشدد کا ننگا ناچ برپا کر رکھا ہے۔ ہریانہ کے واقعہ کے علاوہ جئے پور سے ممبئی کی ٹرین میں ایک کانسٹبل نے فرقہ واریت کا گھناؤنا مظاہرہ کیا اور اپنے ایک سینئر کے بشمول تین مسلم افراد کو سرکاری ہتھیار سے قتل کردیا۔گڑگاؤں کے سیکٹر 57 کی مسجد کے امام حافظ سعد، جن کا تعلق بہار کے سیتامڑھی ضلع کے مانیادھیا نامی ایک چھوٹے سے گاؤں سے تھا، نامساعد گھریلو حالات اور تین بہنوں کی ذمہ داری کی وجہ سے اپنے خاندان کی کفالت کیلئے چھوٹی عمر میں ہی مسجد کی امامت کے لئے گروگرام منتقل ہوگئے تھے ۔حافظ سعد 8 ماہ قبل نائب امام کے طور پر مامور ہوئے تھے۔ وہ مسجد کے اندر علاقے کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے بھی ذمہ دار تھے۔ واقعہ کی رات ان کی اہلیہ نے تقریباً 11.30 بجے ان سے بات کی۔ انہیں بتایا گیاکہ برقی منقطع ہو گئی ہے اور مسجد کے باہر پولیس موجود تھی۔ تاہم، نصف شب کے قریب اشرارکے حملے کے دوران حافظ سعد اور ان کے دو ساتھی شدید زخمی ہوئے۔انہیں فوری طور پر پریتیکا اسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (ICU) میں منتقل کیا گیا۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حافظ سعد جانبر نہ ہوسکے اور ان کے دو ساتھی شدید زخمی ہیں۔ اس وقت، خورشید، اور ایک شخص جو اسی واقعہ میں زخمی ہوئے تھے،ان کی حالت بدستور تشویشناک ہے اور انہیں خصوصی طبی امدادکیلئے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا ہے ۔اسی دوران سابق رکن راجیہ سبھا محمد ادیب نے بتایا کہ گروگرام پولیس کمشنر کے مطابق سیکٹر 57 مسجد پر حملہ کیس میں پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔دریں اثناء آج دن میں بھی گروگرام میں اشرار نے ریسٹورنٹ اور بعض دکانات پر حملہ کردیا۔تشدد میں اب تک 5اموات کی اطلاع ہے، گاڑیوں کو جلایا گیا، گروگرام اور میوات کے علاقے میں اسکولوں اور کالجوں میں چھٹی کا اعلان، 2 دن کے لیے انٹرنیٹ بندہیاورضلع نوح میں 2 روز کے لیے کرفیو نافذہے ۔ہندوتوا تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جو ہجوم کی قیادت کرنے والے کے مطابق بچوں سے لے کر بڑوں تک ہر کوئی اسلحے اور پٹرول بموں سے لے کر پستول سے لیس ہے ۔علاقے میں ہر چیز کا استعمال ہو رہا ہے۔