مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی کی کارکردگی پر سوال: ریاستی وزیر ٹی سرینواس یادو
حیدرآباد :۔ ریاستی وزیر انیمل ہسبنڈری ٹی سرینواس یادو نے حیدرآباد میں 40 ہزار روہنگیائی باشندے ہونے کا بی جے پی کی جانب سے جھوٹی تشہیر کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ بی جے پی جھوٹی تشہیر کرتے ہوئے عوام کے جذبات کو مجروح کررہی ہے اور حیدرآباد کی پرامن فضا کو نقصان پہونچا رہی ہے ۔ انہوں نے مرکز سے استفسار کیا کہ پرانے شہر میں 40 ہزار روہنگیائی باشندے ہے تو وہ کیا کررہی ہے ۔ مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی کیا کررہے ہیں ؟ 18 ماہ سے وہ مرکزی وزارت میں شامل ہیں ۔ انہوں نے حیدرآباد کی ترقی کے لیے کیا خدمات انجام دی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ شہر حیدرآباد میں سیلاب کے متاثرین کے لیے مرکزی حکومت نے کوئی امداد نہیں دی جب کہ حکومت نے 2 ماہ قبل ہی سیلاب اور بارش کے متاثرین کی رپورٹ مرکزی حکومت کو روانہ کردی گئی اور چیف منسٹر کے سی آر نے وزیر اعظم کو مکتوب بھی روانہ کیا پھر بھی مرکزی حکومت نے ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا ۔ مرکزی وزیر سمرتی ایرانی کے علاوہ بی جے پی کے دوسرے قائدین تلنگانہ سے رپورٹ نہ ملنے کا جھوٹا دعویٰ کررہے ہیں ۔ بہتر ہوتا سمرتی ایرانی اپنے حلقہ پر توجہ دیں۔ کریم نگر کے متوطن بنڈی سنجے کو حیدرآباد کے تعلق سے کیا معلوم ہے ۔
حیدرآباد میں سرجیکل اسٹرائیک کرنے بنڈی سنجے کے ریمارکس کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی بکواس سے شہر کا ماحول خراب ہوگا ۔ اگر بی جے پی کو روہنگیائی باشندے حیدرآباد میں رہنا پسند نہیں ہے تو مرکزی حکومت انہیں ملک سے بیدخل کردیں ۔ ٹی سرینواس یادو نے کہا کہ ٹی آر ایس ترقیاتی ایجنڈے کو لے کر عوام کے درمیان پہونچ رہی ہے ۔ 6 سالہ دور حکومت میں ٹی آر ایس نے اپنی جانب سے کئے گئے اقدامات کو پیش کررہی ہے ۔ جب کہ بی جے پی مذہبی منافرت پھیلا رہی ہے ۔ بی جے پی قائدین کی طرح مجلس کے قائدین بھی وہی زبان اور لہجہ میں بات کررہے ہیں ۔ کانگریس کے منشور پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ منشور جی ایچ ایم سی انتخابات کا ہے ہی نہیں ۔ اور نہ ہی عوام اس پر بھروسہ کریں گے ۔۔