جموں و کشمیر کے بہتر مستقبل کیلئے مفاد پرستوں کو شکست دینا ضروری ۔ انتخابی ریلیوں سے سابق چیف منسٹر کا خطاب
جموں : نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام اگر اپنی تاریخی ریاست کا ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو اسمبلی انتخابات میں ہر ایک ذی شعود فرد کو سوچ سمجھ کر حق رائے دہی کا استعمال کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ ایسے عناصر کو یکسر مسترد کرنا ہوگا جو عوام ، ووٹوں اور مینڈیٹ کو تقسیم کرنے پر تلے ہیں۔ انہوں نے جموں ، ادھم پور اور وجے پورہ میں چناوی ریلیوں سے خطاب میں کہا کہ جموں کا حال دیکھ لیجئے ، بی جے پی نے نہ صرف اس خطے کو اقتصادی بدحالی کی طرف دھکیل دیا بلکہ عسکریت پسندی کو نیا جنم دیا، عوام بی جے پی سے بددل اور ناراض ہیں،اسی لئے پارٹی انہیں مذہب کے نام پر ڈرانے لگی ہے ، اور اپنے حقیر مفادات کیلئے عوام میں دوریاں پیدا کی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5اگست2019سے پہلے جموں وکشمیر کی زمینوں پر صرف یہاں کی آبادی کا حق تھا، نوکریاں مقامی نوجوانوں کا حق تھا، یہاں پہاڑوں، دریاوں اور دیگر وسائل پر پہلا حق مقامی عوام کا تھا لیکن بی جے پی نے ان حقوق سے عوام کو محروم کردیا۔ انہوں نے کہاکہ ہائی وے پراجیکٹ ہو، بجلی پراجیکٹ ہو، یا ٹنل پراجیکٹ ہو،ریت نکالنا ہو یا پتھر نکلانا، ٹھیکیدار باہرکا ہوتا ہے ، وہ ملازم باہر سے لاتا ہے اور مزدور بھی باہر سے آتے ہیں ۔ جموں وکشمیر کے لوگوں کو کچھ نہیں ملتا۔ یہ بی جے پی کی دین ہے ۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے وعدہ کیا کہ جو بھی پراجیکٹ یہاں لگے گا، اُس کے ٹھیکے ، ملازمت اور مزدوری کا پہلا حق مقامی لوگوں کا ہوگا ۔ بی جے پی نے سرکاری ملامت کے دروازے صرف بیرونی افراد کیلئے رکھے ہیں اور ہم سرکاری ملازمتوں کے دروزے بھی کھولیں گے اور ایک لاکھ بھرتیاں عمل میں لائی جائیں گی۔ سابق چیف منسٹر نے کہا کہ بی جے پی نفرت پھیلا کر اور عوام کو ڈرا کر ووٹ حاصل کر رہی ہے ۔ عوام کو تقسیم کرکے حکومت چاہتی ہے اور ہم لوگوں کو بلالحاظ ملت و مذہب اور رنگ و نسل بہتر مستقبل کیلئے ووٹ مانگ رہے ہیں۔ ہم نہ لوگوں کو ڈراتے ہیں، نہ تقسیم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ پرانی حکومت کی غلطیوں کو دہرانا کو دہراتے ہیں، ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم بہتر مستقبل چاہتے ہیں، اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کیلئے بہتر کل چھو ڑکر جائیں، تو اُن عناصر کو مسترد کرنا لازمی ہے جو اپنے مفادات کیلئے عوام کو صرف تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کو شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے وراثت میں یونیورسٹی تک مفت تعلیم دی تھی لیکن بی جے پی نے بچوں کو مفت تعلیم سے بھی محروم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف وہ ہیں جو عوام میں نفرت پھیلا رہے ہیں اور تقسیم کی پالیسی پر گامزن ہے اور گذشتہ 10سال حکومت کرکے عوام کو تباہی اور بربادی کی طرف دھکیل دیا ہے جبکہ دوسری جانب ہم ہیں جو عوام کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں، مہنگائی ، بے روزگاری اور تعمیر و ترقی کے فقدان کو سمجھتے ہیں، اور ان سب کا علاج کرکے جموں و کشمیر کو پھر ایک بار خوشحالی کی طرف لانے پُرعزم ہیں۔