بی جے پی فرقہ وارانہ نفرت کا وائرس پھیلارہی ہے: سونیاگاندھی

,

   

Ferty9 Clinic

غیرمعیاری پی پی ای کٹس اور ٹسٹنگ میں کمی کی مذمت ، غیر مقامی مزدوروں کے مسائل پر توجہ دینے پر زور

نئی دہلی ۔23اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) صدر کانگریس سونیا گاندھی نے بی جے پی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں سنگین کورونا وائرس وباء کے بحران کے بیچ فرقہ وارانہ نفرت اور حسد کا وائرس پھیلا رہی ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی وجہ سے سماجی ہم آہنگی کو شدید نقصان پہنچایا جارہا ہے ۔ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ اس سے ہر ہندوستانی کو تشویش ہونی چاہیئے اور کانگریس پارٹی اس نقصان کی تلافی کیلئے سخت جدوجہد کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء سے ہم سب متحدہ طور پر نمٹ رہے ہیں لیکن بی جے پی مسلسل فرقہ وارانہ نفرت کے وائرس کو پھیلارہی ہے ۔ سابق وزیراعظم منموہن سنگھ ، راہول گاندھی اور پارٹی کے اعلیٰ قائدین نے اس کانفرنس میں حصہ لیا ۔ یہ دوسرا موقع ہے جب کانگریس کی اعلیٰ فیصلہ ساز مجلس کانگریس ورکنگ کمیٹی کا گذشتہ تین ہفتوں کے دوران دوسرا اجلاس منعقد ہورہا ہے ۔ منموہن سنگھ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی کامیابی کا اندازہ بعد میں لگایا جائے گا کہ حکومت نے مہلک کورونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کی کس طرح کوشش کی ہے ۔ کانگریس پارٹی نے پھر یہ شکایت کی کہ حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کے مریضوں کی شناخت کیلئے بڑے پیمانے پر ٹسٹنگ نہیں کی جارہی ہے ۔ سونیا گاندھی نے پی پی ای کٹس کے غیر معیاری ہونے اور ان کی قلت کیلئے بھی مرکزی حکومت کی شدید مذمت کی ۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ کورونا وائرس کی وباء میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔حکومت کو چاہیئے کہ وہ مریضوں کی جانچ کے عمل میں اضافہ کرے ۔

لاک ڈاؤن نافذ ہونے کے بعد بارہا انہوں نے وزیراعظم کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے کئی تجاویز پیش کی اور مثبت اور تعمیراتی تعاون کا تیقن دیا گیا ۔ سونیا گاندھی نے افسوس کا اظہار کیا کہ اُن کی تجاویز پر جزوی طور پر عمل کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی صحت ، فوڈ سیکورٹی اور گذر بسر کے اُمور پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیئے ۔سونیا گاندھی نے بتایا کہ پہلے لاک ڈاؤن کے دوران تقریباً 12کروڑ افراد بیروزگار ہوگئے ۔ انہوں نے چھوٹے پیمانے کی صنعتوں کے شعبہ کو امدادی پیاکیج کی فراہمی کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ ملک کے مختلف مقامات پر پھنسے ہوئے غیر مقامی بیروزگار مزدوروں کی مالی مدد اور غذا کی فراہمی کیلئے بھی انہوں نے حکومت پر زور دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ تجارت اور صنعت ٹھپ ہوکر رہ گئے ہیں ، جس کی وجہ سے بے شمار افراد بیروزگار ہوگئے ہیں ۔ یہ واضح نہیں ہے کہ 3مئی کے بعد حکومت صورتحال سے کس طرح نمٹے گی ۔