کانگریس کے اولڈ اسٹاک قائدین کی بی جے پی میں شمولیت، تلنگانہ میں بی جے پی کیلئے کوئی جگہ نہیں
حیدرآباد۔2 اگست (سیاست نیوز) پردیش کانگریس کے ورکنگ پریسیڈنٹ پونم پربھاکر نے بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن کے اس بیان پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ کانگریس پارٹی آئی سی یو میں ہے اور گاندھی بھون کو ٹو لیٹ کا بورڈ لگادیا جانا چاہئے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پربھاکر نے کہا کہ بی جے پی قائدین نئے فقیر کی طرح ہیں اور وہ تلنگانہ میں کسی بھی صورت اقتدار حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں بی جے پی کی چار نشستوں پر کامیابی محض اتفاق ہے اور حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی کا بی جے پی کو فائدہ ہوا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بی جے پی برسر اقتدار آنے کی طاقت رکھتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو 105 اسمبلی حلقوں میں ضمانت ضبط ہوگئی تھی۔ بی جے پی قائدین کو اسمبلی انتخابات میں اپنی بدترین شکست کو بھولنا نہیں چاہئے جو پارٹی 105 نشستوں پر اپنی ضمانت نہیں بچاسکی وہ تلنگانہ میں اقتدار کا خواب دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو عوامی تائید ہرگز حاصل نہیں ہوسکتی کیوں کہ تلنگانہ کے عوام فرقہ وارانہ سیاست پر کبھی پسند نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا تلنگانہ تحریک میں کوئی رول نہیں ہے۔ بی جے پی نے تلنگانہ کی تشکیل کے بعد نئی ریاست کے حق میں کوئی بڑا جلسہ عام تک منعقد نہیں کیا۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ کانگریس پارٹی مستحکم ہے اور قائدین کے پارٹی چھوڑنے کی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی قائدین عوام سے اس بات کی وضاحت کریں کہ گزشتہ پانچ برسوں میں مرکز سے تلنگانہ کے لیے کیا حاصل کیا گیا۔ تنظیم جدید قانون میں تلنگانہ سے جو وعدے کئے گئے تھے ان کی تکمیل کے لیے بی جے پی قائدین نے کوئی مساعی نہیں کی۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ اگر بی جے پی واقعی مضبوط ہے تو پھر اس کے قائد مرلیدھر رائو نے کریم نگر سے مقابلہ کیوں نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس میں اولڈ اسٹاک کی طرح موجود بعض قائدین بی جے پی میں شامل ہوئے ہیں اور ان کا حشر بھی وہاں اولڈ اسٹاک کی طرح ہوچکا ہے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ کانگریس قائدین مکمل طور پر پارٹی کے ساتھ ہیں اور کسی کے انحراف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ عوام سے جڑے ہوئے مقبول قائدین میں کسی نے بی جے پی میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ کویتا اور ونود کمار کو عوام نے شکست دے دی اور اس سے بی جے پی پر عوام کی محبت اور اعتماد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 600 زیڈ پی ٹی سی میں محض 6 زیڈ پی ٹی سی حاصل کرنے والی بی جے پی کے قائدین کانگریس پر تنقید کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا تلنگانہ یونٹ کے سی آر سے ملی بھگت کے ساتھ کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دونوں پارٹیوں میں مفاہمت نہ ہوتی تو بی جے پی اس وقت کیوں خاموش رہی جب کے سی آر نے وسط مدتی انتخابات کرائے تھے۔ پونم پربھاکر نے کہا کہ بی جے پی کے دفتر کو تالا لگانے کے دن قریب آچکے ہیں۔ انہوں نے کے سی آر کو بی جے پی کی بی ٹیم قرار دیا اور کہا کہ مرکز میں حکومت کے ہر فیصلے کی ٹی آر ایس نے تائید کی ہے۔ جاریہ پارلیمنٹ سیشن میں حکومت کے ہر بل کی ٹی آر ایس نے تائید کی۔ سکیولرازم کا دم بھرنے والی ٹی آر ایس نے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہوئے طلاق ثلاثہ بل کی تائید کی۔