بی جے پی کے قائدین کی سابق وزیر سے ملاقات ، ایٹالہ راجندر کی اپنے حامیوں سے مشاورت
حیدرآباد :۔ بی جے پی کی قومی قیادت کی وزارت سے برطرف ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی ایٹالہ راجندر پر نظر ۔ پارٹی قائدین نے ایٹالہ راجندر سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بی جے پی میں شامل ہونے کی دعوت دی ۔ ایٹالہ راجندر نے آج اپنے حامیوں سے دوبارہ مشاورت کی ۔ تلنگانہ کی سیاست میں کچھ دنوں سے سیاسی ہلچل دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ ایٹالہ راجندر کو وزارت سے برطرف کردینے کے بعد ایٹالہ راجندر اپنے حامیوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندوں سے مسلسل ملاقات کررہے ہیں اور مشاورت کررہے ہیں ۔ دوسری طرف حکمراں ٹی آر ایس ایٹالہ راجندر کو یکا و تنہا کرنے کے لیے تمام سیاسی حربے استعمال کررہی ہے ۔ اسمبلی حلقہ حضور آباد کے تمام مقامی عوامی نمائندوں اور پارٹی قائدین کو پارٹی میں برقرار رکھنے کے لیے ٹی آر ایس کے ٹربل شوٹر ہریش راؤ کو میدان میں اتارا ہے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ پہلے تلنگانہ کے بی جے پی قائدین نے ایٹالہ راجندر سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں بی جے پی میں شامل ہونے کی دعوت دی ۔ اس کے علاوہ کل ایٹالہ راجندر کے فارم ہاوز پر بی جے پی کے قومی قائد بھوپیندر یادو نے پہونچکر تقریبا 2 گھنٹوں تک ملاقات کی ہے ۔ اس ملاقات میں مرکزی مملکتی وزیر داخلہ جی کشن ریڈی ، تلنگانہ بی جے پی کے صدر بنڈی سنجے ، سابق وزیر و قومی بی جے پی کی نائب صدر ڈی کے ارونا ، سابق رکن پارلیمنٹ جی ویویک کے علاوہ کانگریس کے ایک رکن اسمبلی بھی موجود تھے ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر اور ٹی آر ایس سے متحدہ طور پر مقابلہ کرنے کے لیے بی جے پی کے قائدین نے انہیں بی جے پی میں شامل ہونے کی دعوت دی اور بی جے پی میں شامل ہونے پر احترام کا عہدہ دینے کا بھی پیشکش کیا ۔ تاہم ایٹالہ راجندر نے بی جے پی قائدین سے کوئی وعدہ نہیں کیا اور اپنے حامیوں سے مشاورت کرنے کے بعد مستقبل کی سیاسی حکمت عملی طئے کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایٹالہ راجندر کو کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے پارٹی میں شامل ہونے کی دعوت وصول ہوئی ہے ۔ تاہم ایٹالہ راجندر نے اس معاملے میں ہنوز کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے ۔ ایٹالہ راجندر کے حامیوں سے پتہ چلا ہے کہ ایٹالہ راجندر کے سامنے کئی تجاویز ہے ۔ ٹی آر ایس میں رہا جائے یا پارٹی سے مستعفی ہوجائے ۔ اپنی علحدہ سیاسی پارٹی تشکیل دی جائے اور ساتھ ہی اسمبلی کی رکنیت سے مستعفی ہو کر اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے یا پھر کانگریس و بی جے پی میں شامل ہونا چاہئے ۔ ان تمام امور پر وہ اپنے حامیوں سے تبادلہ خیال کررہے ہیں ۔۔